نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کیوں ہوئی؟ پاکستانی کپتان محمد رضوان نے وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ ٹیم نے توقع سے زیادہ بڑا ہدف دیا، ہم نے سوچا تھا کہ وہ 260 کے قریب رنز بنائیں گے، خاص طور پر جب ہم نے شروع میں وکٹیں حاصل کیں، لیکن ولی یانگ اور لیتھم کی پارٹنرشپ نے میچ کا رخ ہی بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپیئنز ٹرافی: نیوزی لینڈ نے افتتاحی میچ میں پاکستان کو شکست دے دی
محمد رضوان نے چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نیوزی لینڈ نے ہوشیاری سے بیٹنگ کی، جس کی وجہ سے وہ بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہوئے، وکٹ شروع میں بیٹنگ کے لیے آسان نہیں تھی لیکن ینگ اور لیتھم کی اننگز نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہ ’ہم نے کوشش کی لیکن آخری اوورز میں ہماری گیندبازی کی کارکردگی اچھی نہیں رہی جس سے وہ بڑا سکور بنانے میں کامیاب ہوئے۔‘
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے منتظر ہیں،محمد رضوان
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم نے 2بار اپنا ردھم کھویا، پہلے باؤلنگ کے آخری اوورز میں اور پھر بیٹنگ کے پاور پلے میں، جہاں فخر زمان کا نہ ہونا ایک بڑا نقصان ثابت ہوا۔
محمد رضوان نے کہا کہ ہم دفاعی چیمپئن ہیں جس کی وجہ سے آج کے میچ میں ہم پر دباؤ تھا، یہ میچ ختم ہوگیا، اب اگلا میچ ہمارے لیے ایک عام میچ کی طرح ہے۔
فخر زمان کی انجری کے حوالے سے رضوان نے کہا کہ دیکھتے ہیں اسکین کی رپورٹ کیا کہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 78 رنز سے شکست، کپتان محمد رضوان نے کس کو ذمہ دار ٹھہرایا؟
یاد رہے کہ چیمپئنز ٹرافی 2025 کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 60 رنز سے ہرا دیا ہے، قومی ٹیم کا اگلا میچ دبئی میں 23 تاریخ کو بھارت کے خلاف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان چیمپیئنز ٹرافی شکست فخرزمان کرکٹ محمد رضوان نیوزی لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان چیمپیئنز ٹرافی کرکٹ محمد رضوان نیوزی لینڈ محمد رضوان نے نیوزی لینڈ میچ میں
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔