دورہ ویسٹ انڈیز کیلیے قومی ٹیم کا اعلان، رضوان کپتان، بابر اور شاہین کی بھی واپسی
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
لاہور:
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا۔
ویسٹ انڈیز کیخلاف قومی ٹیم تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گی، محمد رضوان کو ون ڈے انٹرنیشنل میں کپتان برقرار رکھا گیا ہے جبکہ شاہین شاہ آفریدی اور بابراعظم بھی ون ڈے اسکواڈ میں شامل ہیں۔
قومی کرکٹ ٹیم 27 جولائی کو امریکہ پہنچے گی جہاں 31 جولائی، 2 اور 3 اگست کو تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز شیڈول ہیں، ون ڈے انٹرنیشنل میچز 8، 10 اور 12 اگست کو کھیلے جائیں گے۔
ٹی 20 اسکواڈ (15 کھلاڑی):
سلمان علی آغا، حارث رؤف، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی، فہیم اشرف، فخر زمان، خوشدل شاہ، حسین طلعت، محمد نواز، حسن نواز، صائم ایوب، ابرار احمد، صاحبزادہ فرحان، محمد حارث، سفیان مقیم۔
ون ڈے انٹرنیشنل سکواڈ (16 کھلاڑی):
محمد رضوان، سلمان علی آغا، بابر اعظم، عبداللہ شفیق، فہیم اشرف، فخر زمان ، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، صائم ایوب، حسین طلعت، محمد نواز، حسن نواز، ابرار احمد، محمد حارث، سفیان مقیم۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ون ڈے انٹرنیشنل
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔