عام طور پر زندگی میں خود سے باتیں کرنا عجیب یا شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا ہے لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ عادت درحقیقت بہت سے فوائد کی حامل ہے۔ خود کلامی نہ صرف دماغی صلاحیتوں کو بہتر بناتی ہے بلکہ جذباتی صحت کو بھی مستحکم کرتی ہے۔ 

تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ خیالات کو زبانی طور پر بیان کرنے سے دماغ کے متعدد حصے فعال ہو جاتے ہیں، جس سے مسائل کو حل کرنے کی مہارت اور وضاحت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اونچی آواز میں خود سے بات کرنا میموری کو بہتر بناتا ہے، معلومات کو منظم کرتا ہے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مستحکم کرتا ہے۔ 

خود کلامی جذباتی ضبط کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ عادت منفی جذبات سے دور رکھتی ہے اور اضطراب اور تناؤ کو کم کرنے میں معاون ہے۔ ماہرین کے مطابق خود سے باتیں کرنا آپ کو زیادہ عقلی نقطہ نظر فراہم کرتا ہے، جس سے آپ چیلنجوں کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ 

اونچی آواز میں خود سے بات کرنا علمی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے، خاص طور پر مسائل حل کرنے کے معاملات میں۔ یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن کے پروفیسر گیری لوپیان کے مطابق ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ تصویروں میں اشیا کو تلاش کرتے ہوئے ان کے نام اونچی آواز میں بولتے ہیں، وہ انہیں جلد ڈھونڈ لیتے ہیں۔ 

خود کلامی ایک ایسا عمل ہے جو علمی اور جذباتی بہبود دونوں کو فروغ دیتا ہے۔ یہ عادت آپ کو زیادہ منظم اور توجہ مرکوز رہنے میں مدد دیتی ہے، جس سے روزمرہ کے کاموں کو ترجیح دینے اور انہیں مؤثر طریقے سے انجام دینے میں آسانی ہوتی ہے۔ 

خود سے باتیں کرنا شرمندگی کا باعث نہیں، بلکہ یہ ایک فائدہ مند عادت ہے جو دماغی اور جذباتی صحت کو بہتر بناتی ہے۔ اگر آپ کو کبھی خود سے باتیں کرتے ہوئے شرم محسوس ہو تو یاد رکھیں کہ یہ عادت آپ کی علمی صلاحیتوں کو بڑھانے اور جذباتی توازن برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔ اب سے خود کلامی کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس کے فوائد سے لطف اندوز ہوں!

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سے باتیں کرنا خود سے باتیں خود سے بات خود کلامی یہ عادت کو بہتر

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • زندگی کا مقصد
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن