تحریک انصاف کی ایک ہی دن میں دوسری بڑی فتح
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 فروری2025ء) تحریک انصاف کی ایک ہی دن میں دوسری بڑی فتح، لاہور ہائیکورٹ بار کے بعد تحریک انصاف کے حمایت یافتہ وکلاء گروپ نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا الیکشن بھی جیت لیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے الیکشن کے نتائج سامنے آ گئے جس کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ گروپ نے میدان مار لیا ۔
تحریک انصاف وکلاء گروپ کے حمایت یافتہ امیدوار واجد گیلانی اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر منتخب ہو گئے۔ جبکہ اعظم نذیر تارڑ گروپ کے حمایت یافتہ منظور ججہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری منتخب ہو گئے۔ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن میں حکومتی گروپ کو شکست ہوئی، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ گروپ نے کلین سوئپ کر کے تمام عہدوں پر فتح حاصل کر لی۔(جاری ہے)
لاہور ہائیکورٹ بار انتخابات برائے سال26-2025 کے نتائج سامنے آ گئے جس کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت کے حمایت یافتہ عاصمہ جہانگیر گروپ کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ تحریک انصاف کے حامد خان گروپ کے امیدواروں نے تینوں بڑے عہدوں کے الیکشن پر کامیابی حاصل کر کے حکومتی گروپ کیخلاف کلین سوئپ کیا۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں پروفیشنل گروپ کے صدارتی امیدوار ملک آصف نسوانہ 7 ہزار 50 ووٹ حاصل کر کے صدر منتخب ہوگئے ، ان کے مدمقابل انڈیپینڈنٹ گروپ کے صدارتی امیدوار ثاقب اکرم گوندل 6 ہزار 4 سو 60 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے ،اسی طرح نائب صدر کی نشست پر عبد الرحمن رانجھا 8 ہزار 2 سو 55 ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پائے ،سیکرٹری کی نشست پر فرخ الیاس چیمہ نے 6 ہزار 8 سو 33 ووٹ حاصل کئے جبکہ سیکرٹری فنانس کی نشست پر حام بن شعیب کمبوہ بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے، بار کے الیکشن میں کل 13 ہزار 602 ووٹ کاسٹ کیے گئے،ہفتہ کے روز لاہور ہائیکورٹ میں انتخابات کے لیے سات پولنگ بوتھ قائم کیے گئے جبکہ بائیو میٹرک ووٹنگ کے لیے 120 کمپیوٹر نصب کیے گئے تھے ،چیئرمین الیکشن بورڈ شہزاد منڈ اور ڈپٹی چیئرمین محمد علی نے انتخابی عمل کی نگرانی کی،انتخابی نتائج کے اعلان ہوتے ہی کامیاب امیدواروں کے حامی نوجوان وکلا نے زبردست نعرہ بازی کی، جیت کی خوشی میں بھنگڑے ڈالے اور کامیاب امیدواروں کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا، اس موقع پر نو منتخب صدر ملک آصف نسوانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری کامیابی آئین و قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی مضبوطی کے لئے جہدو جہد کرنے والے وکلاء کی کامیابی ہے، انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ کو ساتھ لیکر چلیں گے، وکلا ء کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی مضبوطی کے لئے کام کریں گے ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام آباد ہائیکورٹ بار لاہور ہائیکورٹ بار ہائیکورٹ بار کے کے حمایت یافتہ تحریک انصاف کے حاصل کر کے ووٹ حاصل گروپ کے
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔