پشاور (خبر نگار خصوصی) گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سانحہ 9 مئی کے مرکزی کردار کے نام پر سٹیڈیم کا نام رکھنا ریاست دشمن قوتوں کو تقویت دینا ہے۔ ارباب نیاز سٹیڈیم کے نام کی تبدیلی انتہائی نامناسب حرکت ہے۔ گزشتہ 9 سال سے اقتدار پر قابض جماعت ارباب نیاز سٹیڈیم کی تزئین و آرائش اور بحالی تک نہ کر سکی۔ سٹیڈیم کا نام صوبے کو دہشتگردوں کے حوالے کرنے والے شخص کے نام پر رکھنا پختونوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ وزیراعلیٰ صوبے کی شناخت مٹانے اور اسے تباہ کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔ گورنر خیبر پی کے  فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا میں دیکھتا ہوں کیسے صوبائی حکومت زمینداروں سے ٹیکس لیتی ہے۔ سی ایم سول نافرمانی کا اعلان کر سکتا ہے تو ہم صوبائی حکومت کے ایسے اقدامات پر سول نافرمانی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ پشاور میں کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پی کے  فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس صوبے کو تباہ کرنا ہے، صوبائی حکومت صوبائی حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہی، معاہدوں کے تحت دیگر صوبوں میں نہریں بن گئی ہمارے صوبے میں نہیں بنی۔ رواں سال چشمہ رائٹ بنک کینال کو شروع کریں گے، یہ اسلام آباد میں دھرنا دے کر پتلی گلی سے نکلتے تھے، ہم بھی زمینداروں کے ساتھ دھرنا دے سکتے ہیں۔ خیبر پی کے  کی 34 میں سے 24 یونیورسٹیز میں وائس چانسلر نہیں ہیں، سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہمارے صوبے میں ہو رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: صوبائی حکومت خیبر پی کے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر سسٹم بند، ٹیکس دہندگان کے لیے اہم ہدایت جاری
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن