آئی ایم ایف کا 4 رکنی وفد مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا۔
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
آئی ایم ایف کا 4 رکنی وفد مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا. تکنیکی مذاکرات کا آغاز آج ہی ہو گا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق وفد 2 روز تک پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔ وفد نے آج صبح حکام سے وزارتِ خزانہ میں تعارفی ملاقات کی۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد وفاق سمیت صوبوں کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔ مذاکرات میں آئی ایم ایف گرین بجٹنگ کلائمٹ اور موسمیاتی تبدیلی کی ٹریکنگ اور رپورٹنگ پر تبادلۂ خیال ہو گا، وفد کلائمٹ بجٹنگ کے منصوبوں پر بھی بات چیت کرے گا۔پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالرز ملنے کی توقع ہے۔حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے باقاعدہ درخواست کر رکھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کے لیے
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز مہنگی ہونے کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، ضابطہ و رابطہ محمد اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور وزارت تجارت و وزارت خزانہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق دیگر معاملات اور ضروری ادویات کی دستیابی کے حوالے سے اپنی سفارشات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور کمیٹی کے غور کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل کے تحت اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ضروری ادویات تک مریضوں کی رسائی، ادویہ ساز صنعت کی پائیدار فراہمی اور مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
وزیر خزانہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اہم ادویات سے متعلق فیصلوں کی وجوہات عوام تک واضح انداز میں پہنچائی جائیں تاکہ ان کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔