کریمنل ریکارڈ سے نام نکلوانے کا جھانسہ دیکر خاتون ڈاکٹر کو ہراساں کرنے پر پولیس افسر کیخلاف مقدمہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
پولیس کریمنل ریکارڈ سے نام نکلوانے کا جھانسہ دیکر خاتون ڈاکٹر کو حراساں کرنے پر لاہور پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق لاہورپولیس نے بتایا کہ افسر کے خلاف مقدمہ گلبرگ میں متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
متاثرہ لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ میرے خلاف ساؤنڈ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج تھا، اے ایس آئی نے کریمنل ریکارڈ سے نام نکلوانے کے بدلے میسجز پر بات کرنے کا کہا۔
متاثرہ ڈاکٹر نے الزام لگایا کہ اے ایس آئی نور خان نے گلبرگ میں ٹی شاپ پر بلوا کر جسمانی طور پر ہراساں کیا۔
پولیس نے کہا کہ متاثرہ ڈاکٹر کی درخواست پر اے ایس آئی کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے ایس
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔