پی آئی اے کی نجکاری کیلئے مقرر مالیاتی مشیر کو سوا ارب روپے دیئے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
پی آئی اے کی نجکاری کیلئے مقرر مالیاتی مشیر کو سوا ارب روپے دیئے جانے کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 25 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن(پی آئی اے)کی نجکاری کیلئے مقرر کردہ مالیاتی مشیر کو سوا ارب روپے دیے گئے مگر اس کی نجکاری نہیں ہوسکی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے قائمہ کمیٹی کو پی آئی اے کی نجکاری پر بریفنگ دی۔
انہوں نے آگاہ کیا کہ قومی ایئرلائن (پی آئی اے)کی نجکاری کے لیے جس مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کی گئی تھیں اسے ایک ارب 20 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جاچکی ہے، تاہم پی آئی اے کی نجکاری نہیں ہوسکی۔سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ مالیاتی مشیر کو مجموعی طور پر 69 لاکھ ڈالر(ایک ارب 90 کروڑ روپے)ادا کرنے ہیں، اب تک ایک ارب 20 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جاچکی ہے، مالیاتی مشیر کو 63 فیصد رقم ادا کی جاچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ مالیاتی مشیر کو دوسرے مرحلے میں نجکاری کے عمل کی ادائیگی نہیں ہوگی باقی ماندہ رقم نجکاری کا عمل مکمل ہونے پر ادا کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے پچھلی بار لگائی گئی بولی قابل قبول نہیں تھی۔
انہوں نے قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ میں بتایا کہ پی آئی اے ہولڈکو کی 26 جائیدادیں ہیں اور پی آئی اے سی ایل کی 5 جائیدادیں ہیں، بلیو ایریا میں واقع اسلام آباد کے پلاٹ کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا، بلیو ایریا کے پلاٹ کی مالیت 10 سے 12 ارب روپے لگائی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسکائپ ہوٹل پیرس اور روز ویلٹ ہوٹل کمرشل پراپرٹیز ہیں یہ دونوں ہوٹلز پی آئی اے ہولڈ کو، کی ملکیت ہیں، روزویلٹ ہوٹل کا موجودہ معاہدہ مئی کے مہینے میں ختم ہو جائے گا، تین ماہ کا نوٹس دیا جائے گا، اس کے بعد یہ کلئیر ہوجائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی آئی اے کی نجکاری مالیاتی مشیر کو ارب روپے
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔