نیویارک انتظامیہ کا تاریخی روزویلٹ ہوٹل جون سے پناہ گزینوں کیلئے بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
نیویارک انتظامیہ کا تاریخی روزویلٹ ہوٹل جون سے پناہ گزینوں کیلئے بند کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 25 February, 2025 سب نیوز
نیویارک (سب نیوز) میئرنیویارک ایرک ایڈمز نے مین ہیٹن کا تاریخی روزویلٹ ہوٹل جون 2025سے پناہ گزینوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا۔
نیویارک میں تین سال کے دوران 50 سے زاید پناہ گاہیں بند کی جا چکی ہیں، روزویلٹ ہوٹل میں اس وقت 2 ہزار 852 پناہ گزین مقیم ہیں۔روزویلٹ ہوٹل پاکستان کی قومی ائیر لاین کی ملکیت ہے جسے 2023 میں نیویارک انتظامیہ کو معاہدے کے تحت 3 سال کے لیے 220 ملین ڈالر کے عوض لیز پر دیا گیا تھا۔
دو سال قبل ہزاروں تارکین وطن یہاں پناہ کے انتظار میں فٹ پاتھوں پر بیٹھے نظر آتے تھے، جس سے یہ امریکا میں امیگریشن کے تنازعے کا مرکز بن گیا تھا۔ تاہم امریکا میکسیکو سرحد پر تارکین وطن افراد کی آمد میں کمی اور نیو یارک کے ہنگامی پناہ گاہی نظام کے خاتمے کے باعث اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔