نیویارک انتظامیہ کا تاریخی روزویلٹ ہوٹل جون سے پناہ گزینوں کیلئے بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
نیویارک انتظامیہ کا تاریخی روزویلٹ ہوٹل جون سے پناہ گزینوں کیلئے بند کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 25 February, 2025 سب نیوز
نیویارک (سب نیوز) میئرنیویارک ایرک ایڈمز نے مین ہیٹن کا تاریخی روزویلٹ ہوٹل جون 2025سے پناہ گزینوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا۔
نیویارک میں تین سال کے دوران 50 سے زاید پناہ گاہیں بند کی جا چکی ہیں، روزویلٹ ہوٹل میں اس وقت 2 ہزار 852 پناہ گزین مقیم ہیں۔روزویلٹ ہوٹل پاکستان کی قومی ائیر لاین کی ملکیت ہے جسے 2023 میں نیویارک انتظامیہ کو معاہدے کے تحت 3 سال کے لیے 220 ملین ڈالر کے عوض لیز پر دیا گیا تھا۔
دو سال قبل ہزاروں تارکین وطن یہاں پناہ کے انتظار میں فٹ پاتھوں پر بیٹھے نظر آتے تھے، جس سے یہ امریکا میں امیگریشن کے تنازعے کا مرکز بن گیا تھا۔ تاہم امریکا میکسیکو سرحد پر تارکین وطن افراد کی آمد میں کمی اور نیو یارک کے ہنگامی پناہ گاہی نظام کے خاتمے کے باعث اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔