لاہور بھارت کے کن 2 شہروں جیسا ہے؟ بھارتی صحافی وکرانت گپتا کی دلچسپ باتیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
پاکستان میں جاری چیمپیئنز ٹرافی کی کوریج کے لیے آئے معروف بھارتی صحافی وکرانت گپتا جہاں لاہور کے کھانوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں وہیں انہیں اس تاریخی شہر میں کم از کم 2 بھارتی شہروں کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔
جیو ٹی وی کے ’پروگرام ہنسنا منع ہے‘ میں سابق پاکستانی کرکٹر راشد لطیف، احمد شہزاد اور محمد عامر کے ہمراہ شرکت کرتے ہوئے وکرانت گپتا نے لاہوریوں کی مہمان نوازی اور اچھے کھانوں کے ضمن میں بتایا کہ وہ 4 گھنٹوں میں 2 مرتبہ کھانے کھا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اگر مگر کا کھیل ختم، نیوزی لینڈ کی جیت کے ساتھ پاکستان کا چیمپیئنز ٹرافی میں سفر تمام
’ابھی مجھ سے دوبارہ کسی نے پوچھا کچھ کھاؤ گے، میں نے کہا معاف کردو، میں 4 مرتبہ پاکستان آچکا ہوں، میں نے ایک چیز دیکھی کہ لاہور۔۔۔آنکھ بند کری تو مجھے لگا امرتسر میں ہوں، وہ گالی ایک دوسرے کو ویسے ہی دے رہے ہیں۔ ‘
وکرانت گپتا کے مطابق امرتسر میں جیسی پنجابی بولی جاتی ہے ویسی جالندھر میں نہیں بولی جاتی مگر لاہور میں ویسے ہی بولی جاتی ہے، سیم، ہو بہو، وہی بولنے کا طریقہ، اس موقع پر میزبان تابش ہاشمی نے پوچھا کہ کیا وہاں بھی راستہ غلط بتاتے ہیں تو وکرانت گپتا بولے؛ سب یہی ہے۔
مزید پڑھیں: چیمپیئنز ٹرافی 2025: بارش کے باعث آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان میچ منسوخ
’۔۔۔رکشہ، ٹانگے والا لڑتا بھی ویسے ہی ہے، قلی جو ریلوے اسٹیشن پر ہے وہ بھی وہی بولتا ہے۔۔۔لیکن میں (لاہور میں) تھوڑا باہر نکلا تو دیکھا یہ (لاہور) دلی جیسا بھی ہے، ہمارے جو Lutyens’ دلی ہے، جہاں بڑی بڑی ایمبیسی بھی ہیں، میں نے کہا یار یہ تو بالکل ویسا بھی ہے۔‘
وکرانت گپتا کے مطابق لاہور امرتسر سے بڑا ہے بہت اور دلی سے چھوٹا ہے، دونوں کا مجموعہ۔ ’جیسے میں نے یہ سنا تھا کہ کراچی بمبئی کی طرح ہے لیکن جب کراچی گیا تو میں نے کہا، ایسا تو نہیں ہے، کراچی کچھ بمبئی کی طرح ہے تو کچھ دبئی کی طرح بھی ہے۔‘
مزید پڑھیں:راولپنڈی اسٹیڈیم: چیمپیئنز ٹرافی میچ کے دوران گراؤنڈ میں گھسنے والے شخص کے خلاف مقدمہ درج
کراچی کو دبئی سے تشبیہہ دینے پر نہ صرف میزبان بلکہ مہمان سابق کرکٹر محمد عامر نے بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لقمہ دیا کہ یہ کسی دوسرے کراچی گئے ہوں گے، جس پر وکرانت گپتا بولے؛ وہ 2006 کا کراچی اور 2006 کا دبئی۔
اس موقع پر محمد عامر کا کہنا تھا کہ وکرانت گپتا شاید کلفٹن سائیڈ پر گھومے ہوں گے، جس سے مہمان بھارتی صحافی نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بالکل ایسا ہی تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت وکرانت گپتا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت چیمپیئنز ٹرافی
پڑھیں:
لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
پنجاب میں بارشوں کے بعد لاہور کے ڈی ایچ اے میں بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا۔ رابی پیرزادہ نے بھی اپنے گھر کے قریب کھڑے پانی کی ویڈیو بناتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے شکوہ کر ڈالا۔
رابی پیرزادہ نے اپنے فیس بک پیج پر بارش کے بعد کھڑے ہوئے پانی کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس کا کیپشن ’’بارش کے بعد لاہور کی صورت حال اور مریم نواز کا ستھرا پنجاب‘‘ دیا ہے۔ اور ویڈیو پر لکھا ہے ’’مریم نواز صاحبہ، دیکھیں لاہور کے ساتھ کیا ہورہا ہے‘‘۔
رابی پیرزادہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’مریم نواز صاحبہ! یہ میں اپنے گھر میں کھڑی ہوں، جو کہ لاہور کے مہنگے ترین علاقے میں آتا ہے، یہ ڈی ایچ اے فیز ون ہے۔ میرے آفس ، میرے اسکول کے اندر بہت نقصان ہوا ہے۔ وہ شعیب صاحب جن سے آپ ساری انفارمیشن لیتی ہیں وہ پتا نہیں کس علاقے میں رہتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کا حال بہت خراب ہے۔ مجھے نہیں پتا وہ 960 گاڑیاں کہاں کام کررہی ہیں۔‘‘
https://www.facebook.com/RabiPirzadaMusic/videos/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D8%AA%DA%BE%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8lahore-rain-suthrapunj/1344354571218376/رابی پیرزادہ نے بارش کے بعد علاقے کی زبوں حالی کا شکوہ کیا۔ بعد ازاں ویڈیو کے کمنٹس میں لکھا ’’یہ ویڈیو ڈی ایچ اے میں ضرور ریکارڈ ہوئی ہے، مگر بارش کے بعد تقریباً پورے لاہور کا یہی حال ہے۔ اس ویڈیو کا مقصد کسی مخصوص علاقے یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ اربابِ اختیار تک عوام کی مشکلات پہنچانا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔‘‘
رابی پیرزادہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تاہم کئی صارفین نے کمنٹ کیا کہ شدید بارش کے بعد پانی کا کھڑا ہونا عام بات ہے، جو کہ فوری نہیں نکالا جاسکتا۔ لیکن چند گھنٹوں بعد پانی کی نکاسی کردی گئی۔