اراکین اسمبلی کی شکایتیں، صدر زرداری نے بلدیاتی الیکشن کی تیاری کی ہدایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
صدر آصف علی زرداری کی اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، آصف علی زرداری نے ارکان کو بلدیاتی الیکشن کی تیاری کی ہدایت کردی۔
اراکین اسمبلی نے صدر زرداری کے سامنے شکایات کے انبارلگا دیے۔ کہا کہ بیوروکریسی ہماری بات نہیں سنتی۔ صدرنے ارکین کو یقین دہانی کرائی کہ آپ کے تحفظات جائزہیں، ان کو جلد حل کروائیں گے۔
نجی ٹی وی کے مطابق صدر آصف زرداری نے اراکین سے گفتگو میں کہا کہ بلدیاتی الیکشن کی تیاری کریں، ہمیں بھر پورکامیابی حاصل کرنا ہوگی، پنجاب میں بلدیاتی الیکشن میں مزید تاخیر نہیں ہونا چاہیے، بلاول اور میں خود پنجاب میں بیٹھوں گا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کاحل بلدیاتی الیکشن ہے، ہمیں عوام کی جنگ لڑنی ہے، پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے اس کو سنجیدہ لینا ہوگا، میں ہرفورم پراس کی نشاندہی کرچکا ہوں۔
آصف زرداری نے کہا کہ گورنر پنجاب کی کارکردگی متاثر کن ہے، گورنر پنجاب کا کام ہے جہاں غلط ہو اس کی نشاندہی کرے اور ایکشن لے۔
صدر سے ملاقات میں ممبران نے اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بیوروکریسی ہماری بات نہیں سنتی۔ متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر تو کیا، اسسٹنٹ کمشنر تک ایڈیشنل سیکرٹری کی بات نہیں سنتا۔
ممبران نے شکوہ کیا کہ اربوں روپے کا بجٹ لاہور پرلگادیا۔ باقی پنجاب ایک طرف ہے، یہ کونسا میرٹ ہے۔ کسانوں کا پنجاب میں کوئی پرسان حال نہیں۔
صدرنے ارکین کو یقین دہانی کرائی کہ آپ سب کے تحفظات جائزہیں، ان کو جلد حل کروائیں گے۔ کسانوں کو سہولیات فراہم کرنےکے لئے ہرممکن کوشش کی جائےگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔