مہنگائی کے طوفان سے رمضان المبارک کے استقبال کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 فروری2025ء) مہنگائی کے طوفان سے رمضان المبارک کے استقبال کی تیاریاں، چکن کی قیمت میں یکدم ہوشربا اضافہ کر دیا گیا، انڈوں کی قیمت میں بھی مزید اضافہ ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کا آغاز قریب آتے ہی پنجاب میں مہنگائی کا طوفان بے قابو ہو گیا ہے۔ صوبے بھر میں مصنوعی مہنگائی کو پنجاب حکومت ضلعی سطح پرکنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام نظر آ رہی ہے۔
چینی،کوکنگ آئل،گھی، دودھ دہی،گوشت ، انڈے ،بیسن ،دالیں،چائول،کھجور،ایل پی جی گیس سمیت بیکری اور سیب ،کیلا،انار،آلو ،پیاز،پالک،سبزمرچ،بیگن،سمیت پھل اور سبزیوں کی قیمتوں کی ریٹ لسٹیں غائب ،مارکیٹ اور بازاروں میں منافع خوروں اور ذخیزاندازوں نے اپنے اپنے ریٹ مقرر کرلیے ،ایک ہفتے کے دوران برائلر مرغی کا گوشت تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا۔(جاری ہے)
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولٹری مافیاء نے ایک ہفتہ کے دوران برائلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں 80روپے فی کلو اضافہ کردیا اور قیمتوں مزید اضافہ متوقع ہے ،اس وقت گوشت کی قیمت فی کلو 700روپے جبکہ ہول سیل زند ہ مرغی کا ریٹ480روپے فی کلوکردیا گیا۔ پولٹری منڈی ریٹ 17480روپے فی من ہوگیا۔ اس طرح انڈوں کی قیمتوں میں ایک بار اضافہ شروع ہوگیا گذشتہ دوہفتوں کے دوران 50سے 70روپے فی درجن اضافہ کیا گیاہے۔ اس وقت فارمی انڈوں کی قیمت مسلسل اضافے کے قیمت 270سے 280 روپے فی درجن ہوگئی ہے۔اوپن مارکیٹ میں کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں کے ہر کمپنی کے الگ الگ ریٹ ہیں مختلف کمپنیوں کے ریٹ 50سے 100روپے تک فی کلو فرق ہے۔ اس طرح شہروں میں دودھ بھی 180روپے سے 260روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے۔ دہی 180سے 260روپے فی کلوجبکہ ضلعی انتظامیہ اپنے ہی جاری ریٹ پر 750روپے بیف اور1450روپے مٹن کی قیمتوں پر عملدرآمد کرنے میں مکمل طو پر ر ناکام ہے۔.شہروں میں بیف 1200روپے،مٹن 2200روپے کلو تک فروخت ہورہاہے ، قصاب سرکاری ریٹ پر گوشت فروخت کرنے پر تیار نہیں ہیں۔چند روز میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، گلی محلوں میں چینی 160سے 170روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ دال چنا سمیت دیگر دالیں بھی مہنگی ہوگئیں۔ چاول 340سے 360روپے فی کلو فروخت ہورہے ہیں۔ کھجور جوکہ پہلے 400روپے میں فروخت ہوہی تھی اب 500سے 600روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ بیسن380سے 400روپے فی کلو ،آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ شروع ہوگیا ہے۔ چائے کی پتی میں 50سے 100وپے فی کلو اضافہ ہوچکا، بیکری اٹیمز سمیت دیگر کھا نے پینے کی اشیاء میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ سیب ،انار،کیلا اوردیگرپھلوں کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ اسی طرح آلو ،بندگوبی ،شملہ مرچ، پالک،دیگر استعمال ہونے والی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے ان میں اضافہ شروع ہوگیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی قیمتوں میں کی قیمت فی کلو
پڑھیں:
گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گندم بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پھر پنجاب اور سندھ دونوں اپنے گندم خریداری کے ہدف کا بمشکل 15 فیصد ہی حاصل کیوں نہ کرسکے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سے ذخیرہ اندوز تھے جنہوں نے اس عرصے میں مارکیٹ سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کی، جس کے باعث کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ مل سکا جبکہ صارفین بھی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنا ہوگی، نئے گندم سیزن میں ابھی 8 سے 9 ماہ باقی ہیں، اگر اس دوران گندم درآمد کرنا پڑی تو اس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم تقریباً 1,700 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام مسلسل مہنگائی کے شدید جھٹکے برداشت کر رہے ہیں اور یہ اثرات تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔
انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر کشمیر انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا نہیں بلکہ آ چکا ہے، وفاقی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 253 فیصد، پیاز 81 فیصد، آٹا 74 فیصد، ایل پی جی 46 فیصد، پیٹرول اور ڈیزل 32 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.91 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔