پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو سے ازبک نائب وزیر دفاع کی ملاقات ، اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن )ازبکستان کے نائب وزیر دفاع میجر جنرل برخونوف احمد جملوویچ نے ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ازبک نائب وزیر دفاع اعلیٰ سطح دفاعی وفد کے ہمراہ ایئر ہیڈکوارٹرز پہنچے اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ عسکری تعاون کو فروغ دینے کے امور، مشترکہ تربیت اور ہوابازی کے شعبے میں تکنیکی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایئر ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر ازبک نائب وزیر دفاع کو پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
نہایت حوصلہ مندی اور ہمت کیساتھ خدشات کا اظہار کیجیے یہ بھی جائزہ لیجیے کہ کیا آپ یہ کام صرف اپنے کسی عذر یا بہانے کے سب ملتوی کر رہے ہیں؟
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ نے دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات کو اجاگر کیا اور کہا کہ ازبک فضائیہ کے پائلٹس اور عملے کی استعداد کار بڑھانے کیلئے مکمل تعاون فراہم کریں گے۔پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دیرینہ مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ازبک نائب وزیر دفاع نے ہوا بازی کی صنعت میں پاک فضائیہ کی ترقی کی تعریف کی اور دونوں ممالک کے درمیان فضائیہ سے فضائیہ تک تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ازبک نائب وزیر دفاع نے مشاق طیاروں کی خریداری کے ذریعے ازبک بیڑے میں توسیع کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ دونوں ملکوں نے باہمی مہارت کے تبادلے کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ابا جی نے ہمیشہ ہی بناء مانگے ہم بہن بھائیوں کو سب کچھ خرید کر دیا،جب خود باپ بنا تو بہت سی باتیں سمجھ آ گئیں جو بچپن یا جوانی میں سمجھ نہ آ تی تھیں
ازبک وفد نے سائبر کمانڈ اور قومی انٹیلیجنس، نگرانی اور مربوط فضائی آپریشنز سینٹر کا دورہ بھی کیا، جہاں وفد کو پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔