Nawaiwaqt:
2026-07-24@15:26:39 GMT

3سابق ججز اور سابق ڈپٹی رجسٹرار کے خلاف تحقیقات ختم 

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

3سابق ججز اور سابق ڈپٹی رجسٹرار کے خلاف تحقیقات ختم 

ا سلام آباد (وقائع نگار) 3سابق ججز اور سابق ڈپٹی رجسٹرار کے خلاف تحقیقات ختم کر دی گئیںاسلام آباد ہائیکورٹ کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سابق سیشن جج سید کوثر عباس زیدی کے خلاف تحقیقات ختم کردی گئی، سابق سیشن جج عتیق الرحمان، سابق ایڈیشنل سیشن جج محمد عامر عزیز خان کے خلاف تحقیقات ختم کردی گئیں۔سابق ڈپٹی رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ امتیاز احمد کے خلاف بھی تحقیقات ختم کردی گئیں، انکوائری افسر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اپنی رپورٹ میں انکوائری ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔انکوائری افسر نے رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ افسران پہلے ہی اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے دو ججز کو انکوائری افسر کی سفارش پر انکوائری سے بری کردیا، سیشن جج واجد علی اور سیشن جج عبدالغفور کاکڑ کو انکوائری سے بری کر دیا گیا، ان افسران کے خلاف ضلعی عدالتوں میں تقرریوں میں بے قاعدگیوں کے معاملے پر انکوائری ہوئی تھی، یہ افسران اس وقت ڈپارٹمنٹل سلیکشن کمیٹیوں کے چیئرمین اور اراکین تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے خلاف تحقیقات ختم

پڑھیں:

این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

فائل فوٹو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔ 

عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ 

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔  

حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔  

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ 

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سیکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع، کون سی خفیہ معلومات افشا کی؟
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق