3سابق ججز اور سابق ڈپٹی رجسٹرار کے خلاف تحقیقات ختم
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
ا سلام آباد (وقائع نگار) 3سابق ججز اور سابق ڈپٹی رجسٹرار کے خلاف تحقیقات ختم کر دی گئیںاسلام آباد ہائیکورٹ کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سابق سیشن جج سید کوثر عباس زیدی کے خلاف تحقیقات ختم کردی گئی، سابق سیشن جج عتیق الرحمان، سابق ایڈیشنل سیشن جج محمد عامر عزیز خان کے خلاف تحقیقات ختم کردی گئیں۔سابق ڈپٹی رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ امتیاز احمد کے خلاف بھی تحقیقات ختم کردی گئیں، انکوائری افسر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اپنی رپورٹ میں انکوائری ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔انکوائری افسر نے رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ افسران پہلے ہی اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے دو ججز کو انکوائری افسر کی سفارش پر انکوائری سے بری کردیا، سیشن جج واجد علی اور سیشن جج عبدالغفور کاکڑ کو انکوائری سے بری کر دیا گیا، ان افسران کے خلاف ضلعی عدالتوں میں تقرریوں میں بے قاعدگیوں کے معاملے پر انکوائری ہوئی تھی، یہ افسران اس وقت ڈپارٹمنٹل سلیکشن کمیٹیوں کے چیئرمین اور اراکین تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے خلاف تحقیقات ختم
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔