جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا حامد الحق کی شہادت پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے مدینہ منورہ سے حافظ سلمان الحق سے رابطہ کیا، انہوں نے حافظ سلمان الحق سے تعزیت کی اور واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔
اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ دارالعلوم حقانیہ پر حملہ اور مولانا حامد الحق سمیت شہداء کی خبر سے دل رنجیدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دارلعلوم حقانیہ اور مولانا حامد الحق پر حملہ میرے گھر اور مدرسے پر حملہ ہے، ظالموں نے انسانیت، مسجد، مدرسے، جمعہ اور ماہ رمضان کی آمد کی حرمت کو پامال کیا، دہشت گردی اور بےامنی معاشرے کے لیے ناسور بن چکی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے، انسانیت کی جان، مال، عزت اور آبرومحفوظ نہیں، کے پی میں بےامنی کے بارے میں عرصے سے رونا رو رہے ہیں لیکن ریاست خاموش تماشائی ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ اللہ کریم مولانا حامد الحق اور دیگر کی شہادت قبول فرمائے، کارکن اس موقع پر بھر پور کردار ادا کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان مولانا حامد الحق پر حملہ

پڑھیں:

ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 فوجی، 2 پولیس اہلکار شہید، 12 دہشتگرد ہلاک کردیے گئے

فوٹو: فائل

ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے بزدلانہ حملے میں بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی، حملے میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شہید ہوگئے۔  فرار ہونے والے 12 خوارج کو ہلاک کردیا گیا۔ 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ٹانک پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے بزدلانہ حملہ کیا۔ 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کی۔

سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے اور جوانوں نے غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے 12 خوارج کو ہلاک کردیا۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق شدید دباؤ کا شکار حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرائی۔ دھماکے کے باعث چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور وطن کے 15 بہادر سپوت شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شہدا میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شامل ہے۔

آئی ایس پی ار کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید کسی بھی دہشتگرد کی موجودگی کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ عزمِ استحکام کے تحت دہشتگردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا، ہمارے بہادر شہدا کی عظیم قربانیاں وطن کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بچی کیساتھ زیادتی و قتل کے ملزم کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت، اہلخانہ کا لاش لینے سے انکار
  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 فوجی، 2 پولیس اہلکار شہید، 12 دہشتگرد ہلاک کردیے گئے
  • ٹانک میں دہشت گردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 12 خوارج ہلاک، 15 جوان شہید
  • بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی