رمضان ریلیف پیکج کا اجرا ، کیش 5000 روپے کیسے حاصل کیے جائیں؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) رمضان ریلیف پیکج 2025 کا اجرا کردیا گیا ، پیکیج سے چالیس لاکھ خاندانوں کے دو کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے 20 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج 2025 کا اجرا کردیا، تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا 40 لاکھ خاندان اور 2کروڑ افراد مستفید ہوں گے اور 40 لاکھ مستحق خاندانوں کو ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے 5 ہزار دیے جائیں گے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ گزشتہ رمضان کےمقابلےمیں اس بار مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ہے، اس بار رمضان پیکج میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا، گزشتہ سال کے7ارب کے رمضان پیکج کے مقابلے میں اس بار3 گنا بڑھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان پیکج سے چاروں صوبوں سے مستحق خاندان مستفید ہوں گے، اس بار پیکج کو انتہائی آسان بنایا، اب لمبی قطاروں میں نہیں کھڑا ہونا پڑے گا، پیکج سے چاروں صوبے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستحق خاندان مستفید ہوں گے۔
دہشت گردی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کرکے دم لیں گے، ماضی میں بھی ہم نے دہشت گردی کاخاتمہ کیا، خیبر پختونخوا حکومت فوری طور پر ملزموں کو کٹہرے میں لائے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 80 ہزار پاکستانیوں نے قربانیاں دیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےکھربوں روپےکےمحصولات وصول کرنےہیں، کئی سال سے اسٹے آرڈر لئے ہوئے ہیں ان کے فیصلے نہیں ہوئے، غریبوں کا پیسہ لوٹا جا رہا ہے، اس کوہم آہنی ہاتھوں سے ڈیل کر رہے ہیں، جنہوں نے ونڈفال پرافٹ بنایا، وہ عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے چکے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یوٹیلٹی اسٹور میں بدترین کرپشن تھی، عوام کی دولت کو لوٹا جا رہا تھا، ہم اوربھی کئی ادارے بند کرنے جا رہے ہیں، رمضان کی برکت سے پاکستان سے بے روزگاری، غربت اور مہنگائی کا خاتمہ ہوگا۔
مزیدپڑھیں:رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا، ملک میں کل پہلا روزہ ہوگا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مستفید ہوں گے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل