ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ارمغان کے ملازمین کے بیانات کے علاوہ بھی ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی مقدس حیدر نے کہا کہ مصطفیٰ قتل کیس میں ہم اغوا اور قتل کی تحقیقات کر رہے ہیں، مصطفیٰ کیس کو 8 سے 10 دن میں ٹریک کیا گیا، ہمیں تفتیش میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی، ارمغان کے ملازمین کے 164 کے تحت بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

ارمغان کیخلاف گاڑی کی خرید و فروخت پر شہری کو گھر بلاکر تشدد کرنے کا مقدمہ درج

ملزم ارمغان اپریل 2024 سے مقدمے میں مفرور تھا، وکیل مدعی نے ملزم کی دیگر مقدمات میں گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔

مقدس حیدر نے کہا کہ ارمغان کے گھر سے مصطفیٰ کا موبائل فون اور خون کے نمونے بھی ملے، جس دن ہم نے چھاپا مارا اس سے دو ماہ پہلے تک ارمغان کے پاس گارڈز ہوتے تھے۔

ڈی آئی جی مقدس حیدر نے کہا کہ کرپٹوکرنسی کے معاملے پر ایف آئی اے تحقیقات کرے گی، ارمغان کے پاس پیسے کہاں سے آتے تھے وہ ایف آئی اے تحقیقات کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ڈی ا ئی جی ارمغان کے قتل کی

پڑھیں:

حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔

امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔

ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سیکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع، کون سی خفیہ معلومات افشا کی؟
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت