پارا چنار میں راستوں کی بندش کے خلاف شہری سراپا احتجاج، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, March 2025 GMT
پارا چنار(نیوز ڈیسک)پارا چنار میں راستوں کی بندش کے خلاف شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیدیا، علاقے میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔
تفصیلات کے مطابق پارا چنار میں راستوں کی بندش کے خلاف شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے پریس کلب کے سامنے دھرنا دے دیا۔
مظاہرین نے کہاکہ رمضان المبارک میں بھی اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے، حکومت راستے کھلوانے میں تاحال ناکام ہے، پانچ ماہ سے بند راستوں کو فوری کھولا جائے۔
دوسری جانب پارا چنار مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے، عمائدین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے باوجود ٹل پارا چنار مین شاہراہ نہ کھل سکی۔
تاجر برادری کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش کے باعث اشیائے ضروریہ ناپید ہیں، ضروریات زندگی کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں نے کہا کہ شہر میں آٹا، گھی، چینی، تیل سمیت دیگر اشیاء نہیں مل رہی ہیں، بھنڈی اور مٹر850 ، ٹماٹر 500 روپے، پیاز 250، لہسن 1600، آلو 170 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہر میں کینو فی درجن 800 سے 1ہزار روپے، امرود 600 روپے فی کلو کے حساب سے بیچے جارہے ہیں۔
پارا چنار میں پٹرول اور ڈیزل بلیک میں ہزار روپے سے لیکر 1200 روپے میں فروخت ہورہا ہے، غریب عوام اور متوسط طبقہ ضروری چیزیں خریدنے سے قاصر ہے۔
یاد رہے کہ کرم میں ٹل پارا چنار مرکزی شاہراہ کی بندش کو پانچ ماہ سے زائد ہوگئے ہیں، شاہراہوں کی بندش سے اشیائے ضروریہ کا فقدان ہے اور شہری فاقوں پر مجبور ہیں۔
پٹرول اور ڈیزل کی قلت، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث شہریوں کو پانی کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مزیدپڑھیں:افطاری کے بعد سردی محسوس کیوں ہوتی؟ اہم وجہ سامنے آگئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: راستوں کی بندش کے اشیائے ضروریہ پارا چنار میں
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔