زیلنسکی کا یو ٹرن: ٹرمپ کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
زیلنسکی کا یو ٹرن: ٹرمپ کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کے لیے تیار WhatsAppFacebookTwitter 0 3 March, 2025 سب نیوز
کیف: یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
لندن میں یورپی سربراہی اجلاس کے بعد برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ انہیں یورپ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رہیں گے۔
یوکرینی صدر کے مطابق، یہ معاہدہ یوکرین کے وسیع معدنی وسائل کو استعمال میں لانے کے لیے ایک اہم قدم ہے، جو کہ جنگ کے بعد بحالی کے عمل کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک گرما گرم بحث کے باعث یہ معاہدہ عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا تھا: “یا تو آپ معاہدہ کریں گے، یا ہم باہر ہو جائیں گے، اور اگر ہم باہر ہو گئے تو آپ کو خود لڑنا ہوگا!”
اس سخت مؤقف کے بعد ملاقات کسی معاہدے کے بغیر ہی ختم ہوگئی۔ تاہم، زیلنسکی نے اب دوبارہ واضح کیا ہے کہ یوکرین اب بھی معاہدے کے لیے تیار ہے اور وہ امریکا کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔
امریکا اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کے بعد، برطانیہ میں یورپی رہنماؤں کا خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا، جہاں یوکرین کی سکیورٹی اور دفاع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اجلاس میں کہا کہ “یوکرین کی سلامتی میں پورے براعظم کا استحکام ہے، اور یورپی ممالک کو اپنی دفاعی کوششیں بڑھانی ہوں گی۔”
اجلاس میں روس-یوکرین جنگ کے خاتمے اور یورپی دفاعی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔