وزیر اعلی ٰ پنجاب لیپ ٹاپ سکیم کے لئے طلبہ کی رجسٹریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 مارچ2025ء) پنجاب بھر میں طلبہ کے لئے وزیر اعلی لیپ ٹاپ سکیم کا اعلان کر دیا گیا ۔ ترجمان محکمہ تعلیم کے مطابق وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لیپ ٹاپ سکیم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ اعلی پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت 1,10,000 طلبہ میں جدید ترین لیپ ٹاپ تقسیم کئے جائیں گے۔ سکیم کیلئے پبلک سیکٹر کے تعلیمی اداروں کے بی ایس کے پہلے اور دوسرے سمسٹر کے طلبا اپلائی کر سکیں گے۔
(جاری ہے)
وزیر تعلیم نے کہا کہ طلبہ کو جنریشن 13 کے جدید ترین کور آئی سیون لیپ ٹاپ فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن درخواست کیلئے آفیشل لنک مشتہر کر دیا گیا جو کہ تمام معلومات کے ساتھ پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ طلبا آفیشل لنک پر آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ بی ایس طلبا کیلئے 65 فیصد اور میڈیکل سٹوڈنٹس کیلئے 80 فیصد میرٹ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ میرٹ انٹرمیڈیٹ کے نمبرز کی بنیاد پر بنایا جائے گا۔ رانا سکندر حیات نے مزید کہا کہ لیپ ٹاپ سکیم کا پورٹل اوپن ہونے کے بعد چند گھنٹوں میں ہی 34 ہزار سےزیادہ طلبہ رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لیپ ٹاپ سکیم وزیر تعلیم کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔