منشیات کی خرید و فروخت اور اسمگلنگ پر سزاؤں کا تعین، بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
خیبر پختونخوا اسمبلی میں منشیات کی خرید و فروخت اور اسمگلنگ پر سزاؤں کی تعین کا بل منظور کرلیا گیا۔
بل وزیر برائے ایکسائز اینڈ انسداد منشیات خلیق الرحمان نے پیش کیا، بل میں منشیات کی خرید و فروخت، کاروبار اور اسمگلنگ پر الگ الگ سزاؤں کا پہلی مرتبہ تعین کیا گیا ہے۔
بل میں منشیات کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کرکے منشیات کے اقسام اور مقدار کی مناسبت سے سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے۔
بل کے تحت تعلیمی اداروں میں منشیات برآمد ہونے پر زیادہ سے زیادہ سزائیں دینے کی تجویز شامل ہے۔
نارکوٹکس سبسٹانس بل کے شق نمبر 9 میں ترمیم کرکے ایک کلو سے زائد منشیات پر پھانسی اورعمر قید میں نرمی کی تجویز شامل ہے، پہلے ایک کلوگرام سے زائد منشیات برآمد ہونے پر پھانسی اور عمر قید کی سزا دی جاتی تھی۔
بل میں کہا گیا کہ 10 سے 20 کلوگرام ریکریشنل منشیات پر 14 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے جبکہ 20 کلوگرام سے زائد ریکریشنل ڈرگز پر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا اور 2 لاکھ جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
بل کے تحت ایک کلوگرام سے کم پوست پر زیادہ سے زیادہ 4 سال قید اور 20 ہزار جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
بل کے ذریعے 15 کلوگرام پوست سے زائد برآمد ہونے پر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا اور 3 لاکھ جرمانہ جبکہ 10 کلوگرام سے زائد چرس برآمد ہونے پر زیادہ سے زیادہ عمر قیداور 8 لاکھ تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
بل میں کہا گیا کہ 5 کلوگرام سے زائد حشیش آئل پر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا اور چار لاکھ جرمانہ اور آٹھ کلو گرام افیون برآمد ہونے پر عمر قید تک کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
بل کے تحت 4 کلو سے زائد ہیروئن برآمد ہونے پر عمر قید، 6 کلو سے زائد ہیروئن پر عمر قید یا پھانسی، 5 کلو سے زائد کوکین برامد ہونے پر عمر قید یا پھانسی کی سزا تجویز کی ہے۔
بل میں کہا گیا کہ 4 کلو سے زائد سائیکو ٹراپیک سبسٹانس برآمد پر عمر قید یا پھانسی کی سزا تجویز ہے جبکہ تعلیمی اداروں میں منشیات برآمد ہونے پر سخت ترین سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
بل میں کنٹرول سبسٹانس میں استعمال ہونے والی 12 اشیاء کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پر زیادہ سے زیادہ عمر قید کلوگرام سے زائد عمر قید کی سزا برا مد ہونے پر کیا گیا ہے بل کی سزا تجویز کلو سے زائد میں منشیات تجویز کی سزاو ں کی گئی
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔