کینیڈین صوبے کی امریکی ریاستوں کو دی جانیوالی بجلی پرٹیکس لگانےکی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر ٹیرف برقرار رکھا تو وہ امریکا کو بجلی کی سپلائی منقطع کر سکتے ہیں۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی اشیا پر 25 فیصد اور بجلی پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا۔
جواب میں ڈگ فورڈ نے کہا کہ وہ امریکی ریاستوں مشی گن، نیویارک اور منیسوٹا کو برآمد کی جانے والی کینیڈین بجلی پر 25 فیصد سرچارج لگائیں گے۔
ڈگ فورڈ نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے محصولات میں مزید اضافہ کیا تو وہ ان تینوں امریکی ریاستوں کو مکمل طور پر بجلی کی سپلائی بند کر دیں گے۔
واضح رہے کہ ان ریاستوں میں تقریباً 15 لاکھ امریکی شہری کینیڈین بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔
ڈگ فورڈ کا ردعمل کینیڈین وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کے جوابی اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے 30 ارب کینیڈین ڈالر (20.
اونٹاریو، کینیڈا کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے اور سب سے بڑی معیشت رکھتا ہے، یہاں کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکی کمپنیوں کو صوبے کے انفراسٹرکچر منصوبوں میں بولی دینے سے بھی روک دیا اور ایلون مسک کی اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس کے ساتھ 10 کروڑ ڈالر کا معاہدہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔
انہوں نے ان تینوں امریکی ریاستوں کے قانون سازوں سے بھی رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ صدر ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ کینیڈا پر عائد محصولات واپس لیں، ورنہ ان کے شہریوں کو بجلی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ڈگ فورڈ نے دیگر کینیڈین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسی حکمتِ عملی پر عمل کریں۔
البتہ ڈگ فورڈ کی جانب سے بجلی پر مجوزہ محصولات کے نفاذ کی حتمی تاریخ واضح نہیں، انہوں نے کہا کہ اگر امریکی محصولات جاری رہے تو وہ بجلی پر نیا ٹیرف نافذ کر دیں گے۔
ڈگ فورڈ نے کہا کہ ’ہمیں فوری کارروائی کرنی ہوگی اگر یہ محصولات اپریل تک جاری رہتے ہیں، تو ہم ان کی بجلی منقطع کر دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی ریاستوں بجلی پر
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔