پیپلزپارٹی عوام کے وسیع تر مفاد میں مفاہمت کی سیاست جاری رکھے گی، گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطر مفاہمت کی سیاست جاری رکھے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے گورنر ہائوس لاہور میں پیپلز پارٹی لاہور کے سینئر کارکنوں اور ورکرز کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا ۔
گورنر ہائوس لاہور میں دی جانے والے افطار ڈنر میں پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے سینئر کارکنوں اور ورکرز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور ناراض کارکنوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنا میرا عزم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کاکنان کے لئے اسی طرح افطار ڈنر کا سلسلہ جاری رہے گا۔
گورنر پنجاب نے اس موقع پر پارٹی ورکرز کے ساتھ بیٹھ کر افطاری کی اور سیلفیاں بھی بنوائیں۔ گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ملک کی ترقی ، خوشحالی اور عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطر مفاہمت کی سیاست جاری رکھے گی۔
اُنہوں نے کہا کہ تمام سیاسی رہنمائوں کو مل بیٹھنے اور متحد رہنے کا پیغام دیتا ہوں۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ رمضان المبارک ہمیں رواداری، برداشت اور درگزر کرنے کاسبق دیتا ہے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ میں مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ ماہ رمضان المبارک کے اس مہینے میں مستحقین کو بھی اپنی افطاریوں اور سحریوں میں شامل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر پنجاب نے پیپلز پارٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔