قومی ٹیم کے ٹیسٹ سابق کرکٹر باسط علی نے دعویٰ کیا ہے کہ نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز کیلئے سلمان علی آغا کو کپتان بنانے کا مقصد شاداب کو مستقبل میں ٹیم کی قیادت دینا ہے۔ اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے 54 سالہ سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے کہا کہ جنوری 2024ء کے بعد سے پاکستان نے ٹی20 فارمیٹ میں شاہین شاہ آفریدی، بابراعظم اور محمد رضوان کے علاوہ اب آغا سلمان سمیت 4 کپتان دیکھ لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ کے آخر میں نیوزی لینڈ کیخلاف ٹی20 سیریز میں پاکستان کی ٹیم ناتجربہ کار ہے، کارکردگی نہ دکھانے کی صورت میں آغا سلمان کو کپتانی سے محروم کردیا جائے گا اور شاداب کو لایا جائے گا جو سلیکٹرز چاہتے ہیں۔باسط علی نے سلیکٹرز کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ ٹی20 کیلیے نہایت ناتجربہ کار ٹیم تشکیل دی گئی ہے، اگر ٹیم ہاری اور کپتان لی گئی تو سلیکٹرز کا سوچا سمجھا پلان ہوگا، میرے خیال میں شاداب کو کھیلنے دیں، وہ ایک اچھا کھلاڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان آغا کی بطور ٹی20 فارمیٹ میں کپتانی غلط فیصلہ ہے کیونکہ وہ ون ڈے اور ٹیسٹ کا بہترین کرکٹر ہے لیکن سلیکٹرز اور کوچز نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ باسط علی نے سلیکٹرز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وائٹ بال فارمیٹ کے اسکواڈ میں جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی ٹیموں کا اعلان کرکے خود گڑبڑ کردی ہے، دو دو کھلاڑی مختلف لوگوں کی پسند کی بنیاد پر منتخب کیے گئے ہیں، ایک ٹیم ایسی نہیں بنتی دوست! سیلکٹرز شاید لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان