حالیہ حملے کے غیر ملکی ہتھیار افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کا ثبوت ہیں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
آرمی چیف جنرل عاصم منیر سید کا کہنا ہے کہ حالیہ دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی ہتھیاروں اور سازوسامان کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان ایسے عناصر کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں کینٹ پر 4 مارچ کو دہشتگردوں کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی 16 خارجی ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر سید نے 4 مارچ 2025 کو بنوں چھاؤنی پر دہشت گردوں کے حملے کے اگلے روز بدھ کو بنوں کے دورے کے موقعے پر کہا کہ فتنہ الخوارج سمیت دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دورے کے دوران آرمی چیف کو علاقے میں جاری آپریشنز اور سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
انہوں نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) بنوں کا بھی دورہ کیا اور زخمی فوجیوں کی صحت اور خیریت دریافت کی اور ان کی ثابت قدمی اور غیر متزلزل لگن کا اعتراف کیا۔
آرمی چیف نے جوانوں کے بلند حوصلے اور ثابت قدم عزم کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج ریاست کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف محافظ کے طور پر خدمات انجام دیتی رہے گی۔
آرمی چیف نے دہشت گردی کے اس گھناؤنے اور بزدلانہ واقعے میں اپنی جانیں گنوانے والے بے گناہ شہریوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہونے والے جوانوں کی نماز جنازہ بنوں گیریژن میں ادا
انہوں نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ اگرچہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو بہادر فوجیوں نے فوری طور پر بے اثر کر دیا تھا تاہم اس بزدلانہ حملے کے منصوبہ ساز اور سہولت کار بھی جلد پکڑے جائیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی کو بھی پاکستان کے امن و استحکام میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قبل ازیں کور کمانڈر پشاور نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بنوں حملہ بنوں دورہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف جنرل سید عاصم منیر بنوں حملہ آرمی چیف چیف جنرل
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔