ریاست مخالف پروپیگنڈے کا الزام، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت جے آئی ٹی کے سامنے پیش
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
ریاست مخالف پروپیگنڈے کا الزام، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت جے آئی ٹی کے سامنے پیش WhatsAppFacebookTwitter 0 7 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت اور سوشل میڈیا ٹیم وفاقی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئی۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان، ر ئو ف حسن اور شاہ فرمان جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، ذرائع کا بتانا ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق سوالات پی ٹی آئی قیادت کے سامنے رکھے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے ٹوئٹس اور جے آئی ٹی کے سوالات پر بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے الزام میں وفاقی حکومت کی جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سمیت 15 ارکان کو طلب کیا تھا، جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے 10 ارکان کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کیے تھے۔
تمام افراد کو نوٹس کے ذریعے آج دوپہر 12 بجے جے آئی ٹی کے سامنے طلب کیا گیا تھا، ذرائع کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ان افراد کے خلاف ریاست مخالف پروپیگنڈے کی تحقیقات کریگی۔ آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے تحت تشکیل دی گئی تھی، جے آئی ٹی کا مقصد ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی تجویز کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جے آئی ٹی کے سامنے پیش کی مرکزی قیادت سوشل میڈیا پی ٹی آئی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔