کہا جاتا ہے کہ وضو یا طہارت کے بغیر موبائل یا کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی اسکرین پر قرآن کی تلاوت کی جاسکتی ہے، کیا واقعی کوئی شخص وضو اور طہارت کے بغیر اسکرین پر قرآن مجید پڑھ سکتا ہے اور اسکرین کو چھو بھی سکتا ہے؟

قرآنِ مجید (یعنی مُصحَفِ مقدّس ) کو وضو اور طہارت کے بغیر چھونا منع ہے،البتہ بے وضوزبانی تلاوت کرنا اگرچہ خلافِ مستحب اور خلافِ اَولیٰ ہے لیکن جائز ہے۔

موبائل یا لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کی اسکرین پر چونکہ قرآنی کلماتِ مبارکہ کے نقوش ثبت نہیں ہوتے، یہ محض سوفٹ ویئر ہوتا ہے، لہٰذا سوفٹ ویئر پر قرآنِ کریم کی تلاوت کرسکتے ہیں ۔اگر سوفٹ ویئر پر تلاوت کرتے ہوئے ورق پلٹنا پڑے توسافٹ ویئر کے جس حصے میں آیات نظر آرہی ہیں، اُس حصے کو نہ چھوئے، اطراف سے چھوکر ورق پلٹے ۔

افضل تو یہ ہے کہ باوضو اور باطہارت تلاوت کی جائےلیکن بے وضو زبانی یا اسکرین پرتلاوت کرنا خلافِ مستحب اور خلافِ اَولیٰ ہے ،مگر جائز ہے، بعض اوقات انسان سفر کے دوران فلائٹ میں ہوتا ہے اور کئی حضرات اسکرین پر تلاوت کر رہے ہوتے ہیں، ممکن ہے وہ باوضو نہ ہوں، بہرحال یہ جائز ہے لیکن افضل یہ ہے کہ حتی الامکان باوضو تلاوت کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: تلاوت کی

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل