عید الفطر پر کم از کم 6 چھٹیاں ہونے کا امکان، رویت ہلال ریسرچ کونسل
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پیش گوئی کی ہے کہ اس بار ماہ رمضان 29 دنوں کا ہوگا اور عیدالفطر 31 مارچ کو منائی جائے گی۔ عیدالفطر پر اس بار 6 چھٹیاں ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: عیدالفطر کی چھٹیاں 9 دنوں کی، مگر کیسے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پیش گوئی کی ہے کہ اس بار ماہ رمضان 29 دنوں کا ہوگا اور عیدالفطر 31 مارچ کو منائی جائے گی۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بیشتر حصوں میں 30 مارچ کی شام عیدالفطر کا چاند نظر آ جائے گا، کیونکہ اس وقت اس کی عمر 26 گھنٹے ہوگی جو چاند کے نظر آنے کی شرائط کے عین مطابق ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے عیدالفطر پر قیدیوں کے لیے ’خصوصی تحفہ‘
یوں عیدالفطر کے 3 ایام (پیر تا بدھ) یعنی 31 مارچ اور یکم و 2 اپریل کو عید منائی جائے گی، تاہم 30 روزے پورے ہونے کی صورت میں عید یکم اپریل منگل تا جمعرات منائی جائے گی۔ اس سے قبل ہفتہ و اتوار کو ویسے ہی سرکاری ملازمین کی چھٹی ہوتی ہے، یوں عید کی کم از کم 6 تعطیلات ہوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
6 چھٹیاں رویت ہلال ریسرچ کونسل عیدالفطر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 6 چھٹیاں رویت ہلال ریسرچ کونسل عیدالفطر رویت ہلال ریسرچ کونسل منائی جائے گی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔