سندھ بلڈنگ میں کھوڑو سسٹم کھل کر کھیلنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
کمزور بنیادوں پر خطرناک عمارتیں تعمیر، ڈائریکٹر آصف رضوی اور سجاد خان بے قابو
مقبول کو آ پریٹو باؤسنگ سوسائٹی کے بلاک 3پلاٹ نمبر 1اور 2پر خطرناک عمارتیں تعمیر
شہر قائد میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں کھوڑو سسٹم کھل کر کھیلنے لگاہے، جس کے تحت بلڈنگ افسران غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں اور ڈائریکٹر ڈیمالیشن سجاد خان بھی محکمے سے بھاری تنخواہ اور دیگر مراعات لینے کے باوجود بھی خواب خرگوش میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہر بھر میں انتہائی ناقص مواد سے کمزور بنیادوں پر خطرناک بلند عمارتوں کا جال بچھایا جارہا ہے ۔دیگر علاقوں کی طرح ضلع شرقی میں بھی ڈائریکٹر آصف رضوی نے ریٹائرمنٹ سے قبل ناجائز تعمیرات سے خطیر رقوم بٹورنے کیلئے مافیا کو ناجائز تعمیرات کی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ان دنوں ضلع شرقی کے علاقے جمشید ٹاؤن بہادر آباد میں واقع مقبول کو آ پریٹو باؤسنگ سوسائٹی کے بلاک 3 میں پلاٹ نمبر 1اور 2اور جہانگیر روڈ کے سرکاری کوارٹر کے پلاٹ نمبر T10کی کمزور بنیادوں پر انتہائی ناقص مواد سے تجارتی مقاصد کے لئے بنائی جانے والی بلند عمارتوں کی تعمیر جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔