زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند لیکن ٹیکس کے نظام میں مزید بہتری لانا ہوگی، صدر زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
سٹی42: صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے ہمیں پاکستان کے بہترمستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اورسیاسی استحکام کوفروغ دینا ہے اور اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیےمل کرکام کرنا ہے۔ زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند لیکن ٹیکس کے نظام میں مزید بہتری لانا ہوگی، صدر زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب حکومت اور پیپلز پارٹی کے تمام ارکان اور مہمانوں کی گیلری میں موجود شخصیات نے بہت توجہ سے سنا تاہم پی ٹی آئی کے ارکان اپنے معمول کے مطابق آج بھی پارلیمنٹ مین شور شرابا کرتے رہے جس پر کسی نے توجہ نہیں دی۔
آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کی اختتامی تقریب میں پی سی بی کی غیر موجودگی پر وضاحت پیش کردی
آج سہ پہر اسلام آباد میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے نئے سال کا آغاز ہونے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ملک کو معاشی ترقی کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، سٹاک مارکیٹ بھی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی، حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کردیا، دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ۔
نیگلیریا فولیری سے 36 سالہ خاتون کا انتقال
صدر مملکت نے کہا ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پربھرپورتوجہ دینا ہوگی اور ٹیکس کے نظام میں مزید بہتری لانا ہوگی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا ہماری عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں، ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے، جمہوری نظام مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے محنت کی ضرورت ہے، پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔
مسئلہ یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟ ؛جسٹس جمال مندوخیل
صدر زرداری کا کہنا تھا ہمارے ملک کی آبادی کا ڈھانچہ بدل چکا ہے، انتظامی مشینری میں تذوایراتی سوچ کی کمی، آبادی میں اضافے نے حکمرانی کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، ہمیں پاکستان کے بہترمستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے، ہمیں اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے مل کر کام کرنا ہے، ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔
16 ون ویلرز گرفتار
انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن (پی ٹی آئی نے ایوان میں شور شرابا شروع کر دیا تھا پی ٹی آئی کے ارکان ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح پارلیمنٹ کو پیر ودھائی لاری اڈا بنا ڈالیں۔
تلاوت کلام پاک اور نعت رسول ﷺ ختم ہوتے ہی اسپیکر نے صدر آصف علی زرداری کو خطاب کی دعوت دی تو اپوزیشن نے شدید نعرے بازی اور شور شرابہ شروع کر دیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب اپوزیشن ارکان سے نعرے لگوا رہے تھے۔
صدر آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا ہمیں پاکستان کے بہترمستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ہمیں ملک میں گڈ گورننس اورسیاسی استحکام کوفروغ دینا ہے اور اپنے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیےمل کرکام کرنا ہے۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا ایک سال کے دوران ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے، ملک کو معاشی ترقی کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، اسٹاک مارکیٹ بھی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئی، حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کردیا، دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ۔
صدر مملکت کا کہنا تھا لیکن ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پربھرپورتوجہ دینا ہوگی اور ٹیکس کے نظام میں مزید بہتری لانا ہوگی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا ہماری عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں، ہمیں عوام کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے، جمہوری نظام مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے محنت کی ضرورت ہے، پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔
ملکی اور علاقائی روابط خوشحال پاکستان کیلئے بنیادی حیثیت کے حامل ہیں
صدر زرداری کا کہنا تھا ہمارے ملک کی آبادی کا ڈھانچہ بدل چکا ہے، انتظامی مشینری میں تذوایراتی سوچ کی کمی، آبادی میں اضافے نے حکمرانی کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا آئیے قومی مفاد مقدم رکھیں اور ذاتی و سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں، آئیے اپنی معیشت بحال کرنے، جمہوریت مضبوط کرنے اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے مل کرکام کریں، ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جو منصفانہ، خوشحال اور ہمہ گیر ہو، آئیے اس پارلیمانی سال کا بہترین استعمال کریں۔
صدر مملکت کا کہنا تھا ملکی اور علاقائی روابط خوشحال پاکستان کے لیے بنیادی حیثیت کے حامل ہیں، ایک مضبوط اور موثرٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر،روڈ نیٹ ورکس اور جدید ریلوے کی ضرورت ہے، بلوچستان اور گلگت بلتستان پاکستان کی اسٹریٹجک سرحدیں ہیں، جو ہماری قومی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں۔
قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے
انہوں نے کہا وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیتا ہوں کہ زراعت کے شعبے کو مستحکم بنائیں، زراعت ہماری معیشت کا ایک اہم ستون ہے، زرعی شعبے میں جدید طریقے، بہتر بیج کی تیاری کی ضرورت ہے، زرعی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری اور زمین کو زیادہ پیداواری بنا کر روزگار کے مواقع پیدا کریں، ہمیں پانی کی زیادہ دستیابی اور اس کے مؤثر استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ماہی گیری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، پاکستان کے دریاؤں، جھیلوں اور ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کے مزید مواقع موجود ہیں، کمرشل سطح پرمویشی پالنے سے روزگار اور برآمدات کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، ہمیں حیاتیاتی تنوع کی بحالی، تحفظ خوراک، پانی کی حکمت عملی اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے، قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، سندھ کے مینگرووز ایک روشن مثال ہیں کہ تحفظ کی کوششوں سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سندھ میں ہم نے 2 ارب مینگرووز لگائے ہیں، مینگروز سے سندھ حکومت کو کاربن کریڈٹ کے ذریعے خاطر خواہ مالی فوائد بھی حاصل ہوئے، ہمیں سندھ کے مینگروز ماڈل کو فعال طور پر نقل کرنا چاہیے اور بین الاقوامی کاربن کریڈٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے
دہشتگردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کی قربان دی ہیں، ہم دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
صدر پاکستان کا کہنا تھا اپنی قوم اور بہادر مسلح افواج کے تعاون سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، انٹیلی جنس پر مبنی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا، پوری قوم کو اپنی سیکورٹی فورسز پر فخر ہے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔