پاکستانی زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کروڑوں ڈالر کی کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 14 ارب 45 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد زرمبادلہ کی مجموعلی مالیت 19 ارب 91 کروڑ سے زائد کی سطح پر پہنچ گئی۔ اسٹیٹ بینک سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 14 ارب 45 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی اور زرمبادلہ کی مجموعی مالیت 19 ارب 91 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 46 کروڑ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر لاکھ ڈالر کی کی سطح پر
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔