وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ حکومت کا کوئی مسئلہ نہیں، نہروں کے معاملے پر مؤقف اختیار کرنا ان کی مجبوری ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت تگڑی ہے، کوئی مسئلہ نہیں، کالا باغ ڈیم بن جائے تو پانی کی قلت کم ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں اتحادیوں میں دراڑ: مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

رانا ثنااللہ نے کہاکہ وفاقی کابینہ کا ایک قلمدان ایک آدمی کو دیکھنا چاہیے، کابینہ کی تعداد آئین کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہاکہ عون عباس بپی کے بیڈ روم میں چھاپہ مارنا قابل مذمت ہے، اگر ان کی گرفتاری مطلوب تھی تو انہیں آگاہ کردیا جاتا۔

مشیر وزیرعظم نے کہاکہ جن لوگوں نے عون عباس بپی کے گھر چھاپہ مارا انہیں استحقاق کمیٹی میں بلانا چاہیے، جب تک سیاسی لوگ بیٹھ کر ان چیزوں پر غور نہیں کریں گے ایسا ہوتا رہےگا۔

انہوں نے کہاکہ ہم آج بھی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن یہ تیار نہیں، تحریک انصاف 26 نومبر کی روش پر گامزن رہے گی ہم ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں پیپلزپارٹی کے مسلم لیگ ن کے ساتھ اختلافات ہائی لیول پر چلے گئے ہیں، گورنر پنجاب

ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہاکہ اینکرز کو آف ایئر کرنے میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اتحادی پیپلزپارٹی حکومت رانا ثنااللہ عون عباس بپی مشیر وزیراعظم وفاقی وزرا وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اتحادی پیپلزپارٹی حکومت رانا ثنااللہ عون عباس بپی وفاقی وزرا وی نیوز رانا ثنااللہ نے کہاکہ کے ساتھ

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن