امریکی عدالت نے فلسطینی ایکٹیوسٹ محمود خلیل کی ملک بدری روک دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
نیویارک: امریکی جج نے فلسطینی کارکن محمود خلیل کی ملک بدری پر روک لگا دی۔ محمود خلیل کو ہفتے کے روز امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے گرفتار کیا تھا، جس پر حماس کی حمایت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
جج جیسی ایم فرمین نے فیصلہ دیا کہ عدالت کا دائرہ اختیار برقرار رکھنے کے لیے خلیل کو امریکا میں رہنے کی اجازت دی جائے، جبکہ ان کی گرفتاری اور ممکنہ ملک بدری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت بدھ کو نیویارک کی وفاقی عدالت میں ہوگی۔
محمود خلیل کی گرفتاری کے بعد نیویارک میں سینکڑوں افراد نے ان کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا۔ فیڈرل پلازا میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین نے "فری، فری فلسطین" کے نعرے لگائے اور امریکی حکومت کے سیاسی دباؤ کے تحت فلسطینی حامیوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکی سول لبرٹیز یونین (ACLU) آف نیویارک نے خلیل کی گرفتاری کو آزادیٔ اظہار پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مؤقف کی بنیاد پر کسی کو سزا دینا یا جلاوطن کرنا غیر آئینی اقدام ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حماس کی حمایت کرنے والے افراد کے ویزے اور گرین کارڈ منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد، وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ امریکا میں موجود حماس کے حامی افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
محمود خلیل کے وکیل، ایمی گریر نے ان کی گرفتاری کو سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا اور عدالت میں ان کی فوری رہائی کی درخواست دائر کر دی۔ خلیل کی اہلیہ، جو آٹھ ماہ کی حاملہ ہیں، ان سے ملنے گئیں لیکن انہیں پہلے نیوجرسی کے حراستی مرکز اور پھر لوئزیانا کے امیگریشن حراستی مرکز بھیج دیا گیا، جس پر ان کے خاندان اور حامیوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالبعلم محمود خلیل کی گرفتاری نے امریکا میں فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری سیاسی آزادیوں پر قدغن لگانے کی کوشش ہے اور امریکی حکومت کی فلسطینی یکجہتی تحریکوں کو دبانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمود خلیل کی کی گرفتاری
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔