جمیل فخری کے بیٹے کو امریکا میں کیسے قتل کیا گیا؟ ببرک شاہ اور راشد محمود نے تفصیلات بتادیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
ببرک شاہ اور راشد محمود دو ورسٹائل اور باصلاحیت پاکستانی فنکار ہیں جنہوں نے کامیاب ٹی وی اور فلمی پراجیکٹس میں اپنی بہترین اداکاری کے ذریعے کافی نام کمایا ہے۔ دونوں اداکار اس وقت ڈراموں یا فلموں میں کم کام کررہے ہیں لیکن ماضی میں اپنے کامیاب پراجیکٹس کی وجہ سے انہیں لازوال شہرت حاصل ہے۔
حال ہی میں وہ دونوں ایک ٹی وی پروگرام میں ایک ساتھ نظر آئے تھے جس کی میزبانی ندا یاسر نے کی تھی۔ شو میں انہوں نے پی ٹی وی کے لیجنڈ اداکار جمیل فخری کے بیٹے کی امریکا میں المناک موت کے بارے میں بات کی۔
یہ بھی پڑھیں ’کیا یہ واقعی رمضان ٹرانسمیشن ہے؟‘، جاوید شیخ کی عمران ہاشمی سے متعلق گفتگو پر شدید تنقید
سانحہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ببرک شاہ نے کہاکہ جمیل فخری نے اپنی زندگی میں ایک ناقابل برداشت سانحہ کا سامنا کیا، ان کے بیٹے کو امریکا میں افریقی امریکیوں نے آگ لگا دی تھی۔
انہوں نے بتایاکہ جمیل فخری کا بیٹا بہتر مستقبل کے لیے وہاں گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے اس کا المناک انجام ہوا جسے جمیل فخری نے بہت سنجیدگی سے لیا اور وہ ہمیشہ اداس رہتے تھے۔
واضح رہے کہ جمیل فخری کا شمار پاکستان کے نامور اداکاروں میں ہوتا ہے اور وہ 9 جون 2011 کو انتقال کرگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں ‘ہانیہ عامر اور یشمہ گل کی وائرل ویڈیو:’فلسطین میں قتل عام، نسل کشی ہو رہی ہے جبکہ ہماری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری چپ۔۔۔
یہ بھی یاد رہے کہ جمیل فخری کے بیٹے علی ایاز فخری کو 2010 میں امریکا میں ہلاک کردیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ببرک شاہ بیٹے کی ہلاکت تفصیلات جمیل فخری راشد محمود وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ببرک شاہ بیٹے کی ہلاکت تفصیلات جمیل فخری وی نیوز امریکا میں جمیل فخری ببرک شاہ کے بیٹے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘