کراچی ایئرپورٹ پر 13 پروازیں منسوخ، متعدد تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
تکنیکی اورآپریشنل وجوہات کے باعث کراچی ایئرپورٹ پر 13 پروازیں منسوخ ہوگئیں جن میں کراچی سے لاہور، اسلام آباد، جدہ، کوئٹہ اور پشاور جانے والی پروزیں شامل ہیں۔ تکنیکی اورآپریشنل وجوہات کے باعث منسوخ ہونیوالی پروازوں میں کراچی سے لاہورجانیوالی ایئربلیوبل کی پرواز پی اے 402 ،کراچی سے اسلام آبادجانیوالی سیرین ایئر کی پرواز ای آر 504،اور 502شامل ہیں۔ کراچی سے اسلام آباد جانیوالی ایئربلیو کی پرواز پی اے 200 تین گھنٹے تاخیر کے بعدتین بجے روانہ ہوئی۔ کراچی سے لاہورجانے والی ایئر سیال کی پرواز پی ایف 145،کراچی سے اسلام آبادجانے والی ایئر سیال کی پرواز پی ایف 125،123اورکراچی سے لاہورجانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 304،302بھی منسوخ ہونے والی پروازوں میں شامل ہیں۔ کراچی سے جدہ جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے731 ،کراچی سے کوئٹہ جانے والی فلائی جناح کی پرواز نائن پی 851،کراچی سے پشاورجانے والی فلائی جناح کی پروازنائن پی 865،کراچی سے لاہورجانے والی فلائی جناح کی پرواز نائن پی 840اورکراچی سے مسقط جانے والی فلائی جناح کی پرواز نائن پی 644شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی پرواز پی کراچی سے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔