جعفر ایکسپریس حملہ، ٹرین ڈرائیور نے حملے کے وقت کیا دیکھا، آنکھوں دیکھا حال بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
جعفر ایکسپریس کے ڈرائیور امجد یاسین نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم بولان پہنچے تو ٹرین کے انجن کے تلے خوفناک دھماکا ہوا، جس سے فیول ٹینک پھٹ گیا۔ میں نے ایمرجنسی بریک لگائی جس سے اچانک ٹرین رکنے کی وجہ سے پچھلی 4 بوگیاں بھی ڈی ریل ہو گئیں۔
امجد یاسین نے کہا کہ ٹرین کے رکتے ہی پہاڑوں سے دہشتگرد اترے اور انہوں نے قتل و غارت مچا دی اور ٹرین کے انجن پر راکٹ لانچر مارے گئے۔ اسی دوران ایک گولی کھڑکی کا شیشہ توڑ کر اندر آئی اور میری کمر کو چھو کر گزر گئی۔
مزید پڑھیں:جعفر ایکسپریس حملہ: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل، تمام دہشتگرد ہلاک، 21 مسافر اور 4 جوان شہید
جعفر ایکسپریس کے ڈرائیور نے مزید بتایا کہ ہمیں جان بچانے کی پڑی تھی کہ پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز نے بروقت کارروائی اور کامیاب آپریشن کرکے ہماری جانیں بچالیں۔ ہم پاک فوج کے مشکور ہیں، پاکستان پائندہ باد، پاک فوج زندہ باد۔
واضح رہے کہ منگل 11 مارچ کو بولان میں دہشتگردوں نے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا تھا اور مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے طویل آپریشن کرکے 33 دہشتگردوں کو ہلاک کیا جبکہ دہشتگرد حملے میں 21 مسافر اور 4 سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بولان جعفر ایکسپریس حملہ، ٹرین ڈرائیور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بولان جعفر ایکسپریس حملہ ٹرین ڈرائیور جعفر ایکسپریس
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔