طالبان کمانڈر کا تاجکستان پر قبضہ کرنے کی تیاری کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
طالبان کے کمانڈر مولوی امان الدین منصور(اے آئی جی کمانڈر) نے بدخشاں کے ضلع اشکاشم میں ایک اجتماع میں دعویٰ کیا کہ اگر انہیں اجازت دی جائے تو وہ تاجکستان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے کمانڈر مولوی امان الدین منصور نے بدخشاں کے ضلع اشکاشم میں ایک اجتماع میں دعویٰ کیا کہ اگر انہیں اجازت دی جائے تو وہ تاجکستان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے تاجکوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے اور روس کو یوکرین میں مداخلت کرنے کی وجہ سے رکاوٹ کے طور پر مسترد کیا۔
یہ دعویٰ طالبان کے توسیع پسندانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے۔
طالبان کے کمانڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف دھمکیاں دے رہے ہیں، جس سے ان کے عزائم اور خطے میں ان کی سرگرمیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔
طالبان کا یہ موقف اس بات کا غماز ہے کہ ان کی حکومت جو کبھی عدم مداخلت کے اصولوں پر زور دیتی تھی، اب خود ہی اپنے پڑوسی ممالک کو براہ راست دھمکیاں دینے میں ملوث ہو چکی ہے۔
ان کے کمانڈر کا یہ دعویٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان کی توسیع پسندانہ ذہنیت افغان سرحدوں سے باہر بھی پھیل چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طالبان کے اس اعتماد کا منبع دوحہ معاہدہ ہے، جس میں انہوں نے عالمی سطح پر جوابدہی کے بغیر قانونی حیثیت حاصل کی۔
اس معاہدے کے بعد طالبان نے اپنے جارحانہ عزائم میں اضافہ کیا ہے اور اب وہ اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف متنازعہ بیانات دے رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر ان کے عزائم کی خطرناکی مزید واضح ہو رہی ہے۔
اگر طالبان اپنے ہی دھڑوں کو جنگ کی دھمکیاں دینے سے روکنے میں ناکام ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک ایسی حکومت پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے جو عالمی برادری کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہو۔
طالبان کی حکومت کا فوجی فتوحات پر زور دینا اس بات کی علامت ہے کہ وہ حکومتی اصلاحات اور معاشی بحالی کے بجائے صرف طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں، جو کہ خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ان کے کمانڈر طالبان کے
پڑھیں:
لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی بطور فور سٹار جنرل ترقی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر
لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔وزیراعظم دفتر کے مطابق وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی، لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کر دیا گیا، وہ چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا، ہلال امتیاز ملٹری، ستارہ بسالت کو ان کی ترقی اور تقرری پر مبارکباد دی اور اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی کیلئے جنرل عامر رضا کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔جنرل عامر رضا نے 1988 میں کمیشن پاس کیا، انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویشن کی، اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔جنرل عامر رضا کو جنوری 2025 میں چیف آف جنرل سٹاف جی ایچ کیو تعینات کیا گیا تھا، اس کے علاوہ وہ کور کمانڈر لاہور اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان آرمی، ایئرفورس اور نیوی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری کے بعد کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ متعارف کرایا گیا، اسی قانون سازی کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا۔نیا کمان ڈھانچہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے عہدے کے خاتمے کے بعد تشکیل دیا گیا، جنرل شمشاد مرزا اس عہدے پر خدمات انجام دینے والے آخری افسر تھے، جن کے بعد یہ منصب ختم کر دیا گیا۔ترمیم شدہ قانون کے مطابق وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پاک فوج کے حاضر سروس جنرلز میں سے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کریں، یہ تقرری چیف آف آرمی سٹاف کی سفارش پر تین سالہ مدت کے لیے کی جائے گی، جبکہ چیف آف آرمی سٹاف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب سنبھالیں گے۔