غزہ میں قیدیوں کے رہائی والے مقام سے اسرائیلی جاسوسی آلات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
غزہ میں قیدیوں کے رہائی والے مقام سے اسرائیلی جاسوسی آلات برآمد WhatsAppFacebookTwitter 0 14 March, 2025 سب نیوز
غزہ (آئی پی ایس)غزہ کے سیکیورٹی اپریٹس کے تکنیکی ماہرین نے اسرائیلی ڈرونز کے ذریعے نصب کیے گئے جاسوسی آلات کو بے نقاب کردیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اکثر صبح اور رات گئے تک غزہ کی جاسوسی کے لیے ڈرون کا استعمال کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اطلاع سامنے آئی کہ اسرائیل نے چھوٹے ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے جاسوسی آلات کے ذریعے غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ آلات غزہ کے ان علاقوں سے برآمد ہوئے ہیں جہاں کچھ دن قبل مزاحمتی سرگرمیاں جاری تھیں یا خاص کر وہ مقامات جہاں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی ہوئی تھی۔
گارجین نامی پلیٹ فارم کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس حوالے سے چوکس اور محتاط رہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل نہیں کررہا۔
غزہ کے شہریوں کو بے دخل نہ کرنے کے امریکی صدر کے بیان کا فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جاسوسی ا لات
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔