یوکرین کے ہزاروں فوجی روس کے گھیرے میں ہیں اور وہ بہت بری پوزیشن میں ہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ انھوں نے پیوٹن سے کہا تھا کہ ان کی جانیں بچائی جائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خوفناک قتل عام ہوگا، اس پیمانے پر جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کے ہزاروں فوجی روسی فوج کے گھیرے میں ہیں اور وہ بہت بری اور کمزور پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے پیوٹن سے ان فوجیوں کی جانیں بچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے روس اور امریکہ کے درمیان اچھی اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔ انھوں نے یہ بات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہی اور اس پیش رفت کی تعریف کی۔ لیکن ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ یوکرین کے ہزاروں فوجی روسی فوج کے گھیرے میں ہیں اور وہ بہت بری اور کمزور پوزیشن میں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انھوں نے پیوٹن سے کہا تھا کہ ان کی جانیں بچائی جائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خوفناک قتل عام ہوگا، اس پیمانے پر جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔