سلامتی کونسل اراکین کا کہنا تھا کہ وہ متاثرہ خاندانوں، پاکستانی حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں۔ سلامتی کونسل ارکان ہر قسم اور ہر شکل میں دہشتگردی بین الاقوامی امن و سلامتی کیلئے سب سے سنگین خطرات قرار دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جعفر ایکسپریس نامی مسافر ٹرین پر ہونے والے بزدلانہ و سفاکانہ اور دہشت گرد حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ اپنے ایک بیان میں سلامتی کونسل اراکین کا کہنا تھا کہ وہ متاثرہ خاندانوں، پاکستانی حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ سلامتی کونسل ارکان ہر قسم اور ہر شکل میں دہشت گردی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرات قرار دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

سلامتی کونسل ارکان نے زور دیا کہ ان سنگین دہشتگردی کے واقعات کے مرتکب افراد، منتظمین، مالی معاونین اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل قراردادوں کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ سلامتی کونسل ارکان نے دہرایا کہ کسی بھی مقصد کے تحت کیا جانے والا دہشت گردی کا کوئی بھی عمل ناقابل قبول اور مجرمانہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل ارکان بین الاقوامی

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ دہشتگرد حملہ، وزیراعظم اور صدر مملکت کی شدید مذمت
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت