پشاور: مسجد کی دیوار کے قریب ہونیوالےد ھماکے میں زخمی ہونیوالے مفتی منیرشاکرانتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تھانہ ارمڑ کی حدود میں مسجد کی دیوار کے قریب آئی ای ڈی دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میںزخمی ہونیوالے مفتی منیر شاکر جاں بحق ہو گئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال نے تصدیق کی کہ دھماکے میں زخمی ہونےو الے مفتی منیر شاکر دم توڑ گئے۔
ترجمان ایل آر ایچ کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے میں زخمی 3 افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
قبل ازیںنجی ٹی وی کے مطابق پولیس نے بتایا کہ دھماکے میں 4 افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس افسران، بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی یو) اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے افسران موقع پر پہنچ گئے۔
پولیس کے مطابق دھماکا دیسی ساختہ تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آج خیبر پختونخوا کے 2 اضلاع لکی مروت اور بنوں میں 4 مختلف پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنادیا گیا تھا اور کسی قسم کا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا تاہم حملے میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
مزیدپڑھیں:پشاور میں دھماکہ، مفتی منیر شاکر سمیت چار افراد زخمی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔