آزادی اظہار کی آڑ میں توہین مذہب کا جواز نہیں،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
امریکا ،یورپ اور میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز رویے کے واقعات میں اضافہ ہو
بھارت کیخلاف اسلامو فوبیا پھیلانے پر کاروائی کی جائے ،انسداد اسلامو فوبیا کا دن منایا گیا
انسدادِ اسلاموفوبیا کا عالمی دن دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی منایا گیا ۔اس موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ہم عالمی برادری کے ساتھ مل کر اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن منایا،3 سال قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو منانے کا تاریخی فیصلہ منظور کیا، یہ دن دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کی سنگینی کی ایک واضح یاد دہانی ہے۔شہبازشریف نے کہاکہ اسلامو فوبیا کی لہر کو ختم کرنے کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، آزادی اظہار کی آڑ میں توہین مذہب یا مقدس علامتوں کی بے حرمتی کا کوئی جواز نہیں۔وزیراعظم نے مزیدکہاکہ پاکستان اسلام کے محبت اور امن کے حقیقی پیغام کو پھیلانے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔ بھارت سمیت ہر اس ملک کے خلاف موثراقدامات کیے جائیں جو ریاستی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور اسلامو فوبیا کو بڑھاوا دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکا اور یورپ میں اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز رویئے کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے، اسلامو فوبیا سے مراد مسلمانوں سے بے وجہ خوف اور تعصب ہے جس کا مسلم کمیونٹی کو نفرت اور جسمانی حملوں کی صورت میں سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ نسلی تعصب اور مذہبی امتیاز کی ایک شکل ہے جس میں ’’ بھارت اور بالخصوص مغربی ممالک میں‘‘ تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔دنیا میں بڑھتے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کیلئے 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی طرف سے پیش کردہ ایک قرارداد کی منظوری دی تھی جس میں 15مارچ کو ’’اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن‘‘ منانے کی تجویز دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسلامو فوبیا کے خلاف
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔