ٹرین ہائی جیک: ٹریک کی بحالی کا کام جا ری، بلوچستان میں ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
ایک ہفتے قبل کوئٹہ سے پشاور جا نے والی جعفر ایکسپریس پر ہو نے والے حملے کے بعد کوئٹہ سے کراچی اور کوئٹہ سے پنجاب و پشاور جا نے والی ریل گاڑیاں چھٹے روز بھی معطل رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ جعفر ایکسپریس، وزیر دفاع خواجہ آصف نے مشروط طور پر استعفیٰ کی پیشکش کردی
وی نیوز سے بات کر تے ہوئے ترجمان ریلوے نے بتایا کہ ٹریک کی بحالی کے لیے گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز کی کلیئرنس ملنے کے بعد ٹریک کی بحالی کا کام شروع کردیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ریلوے انجینیئرنگ ٹیمز جائے وقوعہ پر موجود ہیں جہاں متاثرہ ٹرین کو ٹریک سے ہٹا نے سمیت پٹڑی کی بحالی کا کام جا ری ہے جو متوقع طورپر آج شام تک مکمل کرلیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: جعفر ایکسپریس حملہ کوریجر
ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ ٹریک کی مرمت سے قبل حملے کا شکار جعفر ایکسپریس کے انجن کو سبی جبکہ 4 بوگیوں کو مچھ منتقل کیا گیا تھا، متاثرہ 6 بوگیوں کو ٹریک سے اتار کر پٹڑی کی مرمت کا کام جا ری ہے تاہم مرمت کے بعد بھی ٹریک سروس کی بحالی سیکیورٹی کلیئرنس پر مشروط ہوگی۔
دوسری جانب 11مارچ کوجعفر ایکسپریس حملے میں زخمی ہونے والے 12 زخمیوں کو سول اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق 4 زخمیوں کو اسپتال کے ٹراما سینٹر میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ایم ڈی ٹراما سینٹر کے مطابق 13مارچ کو جعفر ایکسپریس حملے کے 17 زخمی سول اسپتال لائے گئے تھے جبکہ ایک زخمی کو سول اسپتال سے سی ایم ایچ منتقل کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: جعفر ایکسپریس کا روٹ کب تک بحال ہوجائے گا؟ ریلوے حکام نے بتادیا
جعفر ایکسپریس اور نوشکی میں سیکیورٹی فورسز پر ہو نے والے حملے کے بعد صوبے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
صوبے کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی کی نفری بھی بڑھا دی گئی ہے جبکہ بلو چستان کے صوبائی درالحکومت کوئٹہ میں سیکیورٹی ہائی الر ٹ ہے۔
کوئٹہ کے ایئر پورٹ روڈ کو سمنگلی روڈ سے منسلک کرنے والے شہدائے زہری فلائی اوور کو ٹریفک کے لیے دونوں اطراف سے بند کردیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ پل کو سیکورٹی خدشات کی بناءپرٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستاب سیکیورٹی الرٹ ٹرین ہائی جیک جعفر ایکسپریس سانحہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستاب سیکیورٹی الرٹ ٹرین ہائی جیک جعفر ایکسپریس سانحہ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم