کراچی(کامرس ڈیسک)سوشل میڈیا پر چند خبریں زیر گردش تھیں کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) کی جانب سے آلٹو گاڑی کے موٹر ویز پر داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلنے لگیں تھیں کہ سوزوکی نے اپنی مقبول ترین کار آلٹو کو بنانا بند کر دیا ہے۔ ایک اور افواہ میں دعویٰ کیا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے آلٹو پر ہائی ویز پر پابندی لگا دی ہے، جس سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہ افواہیں سچ ہیں۔

یہ افواہیں ایک حالیہ المناک حادثے کے بعد زور پکڑ گئی جس میں ایک آلٹو کو ایک بڑے ٹرک نے کچل دیا تھا، جس سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔ بعض صارفین نے جھوٹا دعوی کیا کہ حکام نے حفاظتی خدشات کی وجہ سے آلٹو کو موٹر ویز پر سفر سے روک دیا تھا۔

پاک وہیلز کی رپورٹ میں اس حوالے سے تصدیق سامنے آئی کہ جس میں کہا گیا کہ سوزوکی آلٹو کی بندش نہیں کی گئی اور یہ افواہ جھوٹی ہے۔

نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر ویز پولیس کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

پاک وہیلز حکام کے مطابق پاک سوزوکی موٹر کمپنی حکام نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جبکہ خود آلٹو کو بند نہیں کیا جارہا ہے، کمپنی ممکنہ طور پر آلٹو وی ایکس آر ویرینٹ کو مرحلہ وار ختم کر دے گی، جس میں اہم حفاظتی خصوصیات جیسے کہ ایئر بیگز اور اے بی ایس کا فقدان ہے۔

رپورٹ کے مطابق صارفین اب بھی آلٹو کے اپ گریڈ شدہ ورژن خرید سکیں گے، جو ڈوئل ایئر بیگز، اے بی ایس اور آئی ایس او فکس چائلڈ سیٹ اینکرز سے لیس ہیں۔

خیال رہے اس سے قبل پاک سوزوکی موٹر کمپنی نے 11 مارچ کو اپنی ویگن آر ہیچ بیک کے تمام ویریئنٹس کی بکنگ کو مستقل طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
مزیدپڑھیں:اللہ نے مجھے چار شادیوں کی اجازت دی ہے: اداکار دانش تیمور

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت