شمالی وزیرستان اور اٹک سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
ماڑی انرجیز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دریافت سے ابتدائی طور پر یومیہ 2 کروڑ 4 لاکھ مکعب فٹ گیس اور تیل کے ذخائر میں یومیہ 117 بیرل خام تیل حاصل ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ شمالی وزیرستان اور اٹک سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ماڑی انرجیز لمیٹڈ نے شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ ماڑی انرجیز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دریافت سے ابتدائی طور پر یومیہ 2 کروڑ 4 لاکھ مکعب فٹ گیس اور تیل کے ذخائر میں یومیہ 117 بیرل خام تیل حاصل ہوگا۔ دوسری جانب سوغری نارتھ-1 کنویں اٹک سے بھی گیس اور کنڈینسیٹ آئل کے ذخائر دریافت کیے گئے ہں۔ او جی ڈی سی ایل کے ترجمان کے مطابق سوغری نارتھ-1 کنویں کی کھدائی 21 مئی 2024ء کو شروع ہوئی تھی جبکہ کنویں کی 4942 میٹرکھدائی پرنئی دریافت ملی۔
ترجمان او جی ڈی سی ایل کا بتانا ہے کہ سوغری نارتھ-1 کنویں سے ابتداء میں یومیہ 1 کروڑ 39 لاکھ مکعب فٹ گیس اور یومیہ 430 بیرل خام تیل حاصل ہوگا۔ او جی ڈی سی ایل کے ترجمان کے مطابق سوغری ایکسپلوریشن لائسنس میں او جی ڈی سی ایل کاورکنگ انٹرسٹ 100 فیصد ہے، نئی دریافت گیس، خام تیل او جی ڈی سی ایل کے ہائیڈروکاربن ذخائر بڑھائے گا اور توانائی کا بحران کم ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: او جی ڈی سی ایل کے مطابق گیس اور خام تیل تیل او
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔