اسرائیلی پائلٹ کا غزہ میں دہشتگردی کرنے اور فلسطینوں پر بم برسانے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
صیہونی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے ایک ریزرو نیویگیٹر نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں نئی جنگ کے باعث ریزرو ڈیوٹی کے لیے رپورٹ نہیں کرے گا۔ اسلام ٹائمز ۔ اسرائیلی فضائیہ کے ایک پائلٹ نے غزہ میں دہشت گردی کے ارتکاب اور فلسطینیوں پر بمباری کی تردید کی ہے۔ صہیونی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے ایک ریزرو نیویگیٹر نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں نئی جنگ کی وجہ سے ریزرو ڈیوٹی کے لیے رپورٹ نہیں کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق ریزرو نیویگیٹر کی جانب سے سوشل میڈیا پر بیان دینے کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے پائلٹ کو فوج سے برطرف کردیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریزرو نیویگیٹر ایلون گور نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ افسران کو آگاہ کیا کہ وہ اپنی سروس جاری نہیں رکھ سکتے کیونکہ حکومت نے ایک لکیر عبور کر لی ہے۔ ایلون گور نے کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود پر سیاست کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ انسانی جان کی قدر ختم ہو گئی ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیل کی دفاعی افواج نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ہوائی عملے کے رکن کی ریزرو سروس کو مستقل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق ان حملوں میں اب تک 400 سے زائد فلسطینی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فضائیہ کے مطابق
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔