خیبر پختونخوا میں پولیس پر ایک اور دہشتگرد حملہ؛ نوشہرہ میں اے ایس آئی شہید
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
سٹی42: خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں پولیس پر ایک اور حملہ رپورٹ ہوا ہے، اس حملے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر شہید ہوگیا، گولی لگنے سے گاڑی بے قابو ہو کر کھائی میں جاگری۔
پولیس کے مطابق اے ایس آئی پر فائنرگ کا واقعہ نوشہرہ میں خشکی روڈ پر ہوا، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی الیاس خان شہید ہوگئے۔
شہید الیاس خان تھانہ نوشہرہ کینٹ میں تعینات تھے، ان پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ گولی لگنے سے ان کی گاڑی بے قابو ہوکر کھائی میں گرگئی، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
بیٹے نے کھانے میں معمولی تاخیر پر ماں کو قتل کردیا
دہشتگردوں کی گرفتاری کے لئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ پولیس لائن نوشہرہ میں ادا کی گئی۔
جنازہ میں پولیس، آرمی، ضلعی انتطامیہ ، سیاسی و سماجی شخصیات اور علاقہ معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شہید کی تدفین آبائی علاقے میں سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔
گزشتہ کئی روز سے خیبر پختونخوا میں پولیس پر تواتر کے ساتھ دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں۔
غزہ جنگ بندی کیوں ٹوٹی، کون لوگ بمباری کا نشانہ بنے، الجزیرہ نیوز کی رپورٹ
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔