فیصل جاوید کا نام پی این آئی ایل سے نکالنے سے متعلق توہین عدالت کیس؛ وفاقی حکومت سے 7 روز میں جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
پشاور ہائی کورٹ نے فیصل جاوید کا نام پی این آئی ایل سے نہ نکالنے کے خلاف دائرتوہین عدالت درخواست پروفاقی حکومت سے 7 روز میں جواب طلب کرلیا۔
فیصل جاوید کا نام پی این آئی ایل سے نہ نکالنے کے خلاف دائر توہین عدالت درخواست پرسماعت قائمقام چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس راشد علی نے کی۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے 7 روز میں جواب طلب کرلیا۔ نمائندہ ایف آئی اے نے کہا کہ عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار کا نام لسٹ سے نکال لیں۔ عدالتی احکامات پر ہم پی این آئی ایل سے نام نکالا۔ اسلام آباد پولیس کی سفارش پران کا نام پی سی ایل پر ڈالا گیا۔
قائممقام چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ 7 مارچ کو آپ کو آرڈر کیا کہ جواب جمع کریں۔ ابھی تک جواب جمع نہیں کیا۔7 دن دیتے ہیں اپنا جواب جمع کروائیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
مزید پڑھیں: فیصل جاوید کی پی سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر اداروں سے ریکارڈ طلب
دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ میں فیصل جاوید کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس نعیم انور اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی۔ جسٹس نعیم انور نے استفسار کیا کہ آپ نے ٹکٹ لیا ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جی ٹکٹ لیا ہے۔ عدالت نے گزشتہ آرڈر میں حکم دیا کہ ان کو سہولت فراہم کریں لیکن ان کو ائیرپورٹ روکا گیا۔ عمرہ کے لئے جارہے تھے جہاز سے اتارا گیا۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل ثنا اللہ نے کہا کہ ہم نے کمنٹس جمع کئے ہیں۔ آفس نے کمنٹس پر اعتراض لگایا تھا آج دوبارہ جمع کئے ہیں۔ جسٹس نعیم انور نے کہا کہ عمرہ کے لئے جارہے ہیں۔ رمضان میں ثواب دگنا ہوتا ہے۔ 25 مارچ کو اس کیس کو سنیں گے۔ 25 تاریخ کو سماعت ملتوی نہیں کی جائے گی اس پر فیصلہ کریں گے۔ عدالت نے سماعت 25 مارچ تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصل جاوید کا نام پی این آئی ایل سے درخواست پر کا نام پی نے کہا کہ حکومت سے جواب طلب عدالت نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔