پنجاب: یومِ شہادتِ حضرت علیؓ پر انتہائی سخت سیکیورٹی کا پلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عثمان انور ۔ فوٹو فائل
یومِ شہادتِ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے موقع پر پنجاب پولیس نے سیکیورٹی پلان مکمل کر لیا۔
اس حوالے سے ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ یومِ شہادتِ حضرت علیؓ پر سیکیورٹی انتہائی سخت ہو گی۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ لاہور سمیت صوبے بھر میں 26 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار عزاداری کے جلوسوں اور سیکیورٹی پر تعینات ہوں گے۔
حکومتِ پنجاب نے لاہور میں رمضان المبارک کی آمد پر مساجد اور امام بارگاہوں کا سیکیورٹی پلان مرتب کر لیا۔
ان کا کہنا ہے کہ لاہور میں عزاداری کے جلوسوں اور سیکیورٹی پر 8 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار مامور ہوں گے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے یہ بھی بتایا کہ اس موقع پر سیف سٹیز اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے کیمروں کی مدد سے جلوسوں کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔