اسلام آباد:

تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا ناسور ختم ہونا چاہیے، پی ٹی آئی کیلیے پاکستان کی سلامتی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت کا ایسی بچکانہ باتیں نہیں کرنی چاہئیں اس لیے کہ شاید حکومت بھول گئی ہے کہ حکومت تو ہمیں پارٹی نہیں مانتی، حکومت بھول گئی ہے کہ ان کی پی ڈی ایم حکومت کے اندر ہم سے ہمارا نشان چھین لیا گیا۔ 

رہنما مسلم لیگ (ن) افنان اللہ خان نے کہا کہ ہماری تو بہت خواہش ہے کہ ہم تمام پولیٹیکل پارٹیز کو اور تمام میجرپلیئرز کو اسٹیک ہولڈر ہیں ان کو ساتھ لے کر چلیں لیکن تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے، جتنی مرضی کوشش کرلیں اگر ایک پارٹی یہ طے کر لے کہ اس نے کسی صورت اگلے کی بات نہیں ماننی تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ 

بات یہ ہے کہ آپ اپنی ذات سے باہر نکلیں، سیاست اپنی ذات کیلیے نہیں کی جاتی یہ عوامی مفاد کے لیے یا کسی بڑے مقصد کیلیے کی جاتی ہے، ان کی دنیا شروع اور ختم اپنی ذات سے ہوتی ہے۔ 

اسپورٹس تجزیہ کار عبدالماجد بھٹی نے کہا کہ پاکستان کے آئی سی سی کے جو ہوسٹنگ رائٹس ہیں وہ توطے ہے کہ پاکستان کو تقریباً ساٹھ لاکھ ڈالر یا چھ ملین ڈالر کہہ لیں وہ پاکستان کو ہوسٹنگ رائٹس کے ملیں گے۔ 

چیئرمین پی سی بی کے مشیر اور سی ایف او نے آج جو پریس کانفرنس کی اس میں بتایا کہ پاکستان کو گیٹ منی سے تین ارب روپے مل رہے ہیں اب آپ کو پتہ ہے کہ بھارت جو ہے وہ پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا،بیسیکلی بھارت اپنا اسکور سیٹل کر رہا ہے حالانکہ چیمپیئنز ٹرافی میںبھارت کی ٹیم تو پاکستان نہیں آئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کو

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی